உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اہم خبر: بجلی کے بل کے جھٹکے سے اب یہاں کے لوگوں کو مل سکتی ہے یہ بڑی راحت

    بجلی کے بل کو لیکر سڑک پر اترے لوگ

    بجلی کے بل کو لیکر سڑک پر اترے لوگ

    کورونا بحران اور لاک ڈاٶن سے جہاں ملک بھر میں لوگ مالی تنگی کا شکار ہوٸے ہیں وہیں کولکاتا کے لوگوں کو بجلی کے بل نے ایسا جھٹکا دیا کے شہر کے لوگوں کو سڑک پر اتر کر احتجاج کرنا پڑا۔

    • Share this:
    کورونا بحران اور لاک ڈاٶن سے جہاں ملک بھر میں لوگ مالی تنگی کا شکار ہوٸے ہیں، وہیں کولکاتہ کے لوگوں کو بجلی کے بل نے ایسا جھٹکا دیا کے شہر کے لوگوں کو سڑک پر اتر کر احتجاج کرنا پڑا۔ لوگوں کے احتجاج کے بعد حکومت سامنے آٸی اور لوگوں سے اپیل کی گئی کے وہ بل جمع نہ کریں بلکہ کولکاتہ الیکٹرک سپلاٸی کارپوریشن یعنی سی ای ایس سی کو دوبارہ بجلی کا بل بھیجنا ہوگا۔ مارچ کے مہینے سے شروع ہوٸے لمبے لاک ڈاٶن کے دوران کولکاتہ والوں کو بجلی کا بل پابندی سے ملتارہا۔ گھروں کی بجلی گل نہ ہوجاٸے، بجلی کاٹ نہ دی جاٸے اس خوف سے لوگوں نے پابندی سے بجلی کا بل جمع کیا لیکن اپریل مئی و جون کے بعد جولاٸی کے مہینے میں کولکاتہ و ہوڑہ کے لوگوں کو کولکاتہ الیکٹرک سپلاٸی کارپوریشن سے جو بل ملا اس نے لوگوں کے ہوش اڑا دئے۔
    قابل غور ہے کہ ہر ایک کو تین گنا و اس سے زاٸد اضافی چارج کے ساتھ بل بھیجا گیا جس نے لوگوں کو حیران کردیا الیکٹرک سپلاٸی دفتر کے سامنے لوگوں کی لمبی لاٸن دیکھی گٸی۔ کوٸی افسران کی منت سماجت کررہا تھا تو کوٸی رو رو کر اپنا حال بیان کررہا تھا کہ ایک پنکھا و بلب میں گزارا کرنے والے ہزاروں کا بل کیسے بھریں۔

    بنگال کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس مدعے پر سی سی ایس سی دفتر کو گھیرنا شروع کردیا الکیٹرک سپلاٸی دفتر کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ ریاستی وزیر بجلی شوبھن دیب چٹرجی کو بھی سامنے اکر بیان دینا پڑا جن کا خود کا بل بھی 11 ہزار کا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بجلی کارپوریشن کے افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ کولکاتا و ہوڑہ کے لوگ بجلی کو بل جمع نہ کریں جبکہ بجلی کارپوریشن کے مطابق انہوں نے لاک ڈاٶن کی وجہ سے الیکٹرک میٹر کی جانچ کئے بغیر بل بھیجا تھا جو کم تھا اب ان تمام ماہ کی اضافی رقم کے ساتھ بل بھیجا گیا ہے۔

    ریاستی وزیر نے بجلی کارپوریشن کے اس بیان کو حیران بتاتے ہوٸے نیا بل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بتادیں کہ  وزیر کے اعلان کے بعد لوگوں نے راحت کی سانس تو لی ہے لیکن اب بھی لوگ پریشان ہیں کہ انہیں نیا بل کیوں تھمایا جارہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: