ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بھائی کو کندھے پر بٹھا کر لے جاتا تھا اسکول، اب دونوں نے پاس کیا آئی آئی ٹی

کوٹہ۔ بہار کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے اور پولیو میں مبتلا کرشن اور ان کے چھوٹے بھائی بسنت کا آئی آئی ٹی داخلہ امتحان پاس کرنا بہت ہی متاثر کن اور حوصلہ افزا ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jun 18, 2016 04:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھائی کو کندھے پر بٹھا کر لے جاتا تھا اسکول، اب دونوں نے پاس کیا آئی آئی ٹی
کوٹہ۔ بہار کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے اور پولیو میں مبتلا کرشن اور ان کے چھوٹے بھائی بسنت کا آئی آئی ٹی داخلہ امتحان پاس کرنا بہت ہی متاثر کن اور حوصلہ افزا ہے۔

کوٹا۔ بہار کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے اور پولیو میں مبتلا کرشن اور ان کے چھوٹے بھائی بسنت کا آئی آئی ٹی داخلہ امتحان پاس کرنا بہت ہی متاثر کن اور حوصلہ افزا ہے۔ حالانکہ ان کے لئے یہاں تک پہنچنے کی راہ آسان نہیں تھی۔ کئی سال تک 18 سالہ بسنت کمار پنڈت جسمانی طور پر کمزور اپنے بڑے بھائی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر پہلے اسکول اور پھر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ لے کر جاتے رہے۔


کرشن نے حال ہی میں اعلان ہوئے جے ای ای کے نتیجے میں او بی سی، معذور کوٹہ میں کل ہند سطح پر 38 واں رینک حاصل کیا ہے جبکہ بسنت نے او بی سی زمرے میں 3675 واں رینک حاصل کیا ہے۔ ان کے والد مدن پنڈت کے پاس سمستی پور کے پروريا گاؤں میں پانچ 'بیگھہ' زمین ہے اور ان کی ماں خاتون خانہ ہیں۔ 19 سالہ کرشن جب چھ ماہ کے تھے تب انہیں پولیو نے اپنی زد میں لیا تھا۔ بعد میں، بسنت نے کرشن کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اسکول پہنچانے کی ذمہ داری لی۔


انجینئر بننے کی خواہش سے دونوں بھائی تین سال پہلے کوٹہ پہنچے اور آئی آئی ٹی کے داخلہ امتحان کے لئے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ یہاں بھی بسنت اپنے بھائی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر کوچنگ کلاس کے لئے لے جاتے تھے اور دونوں ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔


کرشن نے کہا کہ جب تین سال پہلے میں نے کوچنگ کے لئے گاؤں چھوڑا تھا، تب گاؤں کے لوگوں کو میری صلاحیتوں پر شک تھا۔ انہیں شک تھا کہ کیا ہم اس طرح اپنی تعلیم جاری رکھ پائیں گے۔ کرشن کے لئے، ان کے 'پیروں' 'کے مقابلے میں ان کا بھائی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کے بارے میں بات کرنے کے دوران بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔

کرشن نے کہا کہ بسنت نے میرے لئے سب کچھ کیا ہے۔ اس نے مجھے کندھوں پر بٹھا کر گھر سے ہاسٹل کے کمرے سے لے کر کلاس تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کالج میں اس کے بغیر رہنے کے بارے میں سوچ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں۔ بسنت نے کہا کہ اسے اپنے بھائی کے لئے ان چیزوں کو کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے بڑے بھائی کے بغیر رہنے کے بارے میں سوچنا بہت تکلیف دہ ہے۔ کامیابی کا ذائقہ بہت میٹھا ہے لیکن الگ ہونے کا تجربہ بہت تلخ۔ بسنت نے اپنے اسکول کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب ہم پانچویں کلاس میں تھے تب میں نے گاؤں میں جسمانی طور پر کمزور لوگوں کے ایک رہائشی کیمپ میں حصہ لیا تھا کیونکہ میرا بھائی کرشن وہاں میرے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ پہلی کوشش میں آئی آئی ٹی کے داخلہ امتحان میں ناکام ہونے کے بعد ان کے والد نے انہیں واپس آنے کے لئے کہا تھا لیکن ممبئی کے ایک گیرج میں کام کرنے والے ان کے دو بڑے بھائیوں نے انہیں مالی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ کرشن نے کہا کہ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بسنت سول سروس میں شامل ہونا چاہتا ہے جبکہ میں كمپيوٹر انجینئر بننا چاہتا ہوں۔
First published: Jun 18, 2016 04:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading