உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جادو پور تنازع میں کودے گورنر، کہا، بدامنی کے مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے یونیورسٹی

    کولکتہ۔ جادو پور یونیورسٹی میں کل سے جاری بدامنی کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر کے این ترپاٹھی نے آج کہا کہ یونیورسٹی تیزی سے 'بدامنی کے ایک مرکز' کے طور پر تبدیل ہو رہی ہے اور حکام کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

    کولکتہ۔ جادو پور یونیورسٹی میں کل سے جاری بدامنی کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر کے این ترپاٹھی نے آج کہا کہ یونیورسٹی تیزی سے 'بدامنی کے ایک مرکز' کے طور پر تبدیل ہو رہی ہے اور حکام کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

    کولکتہ۔ جادو پور یونیورسٹی میں کل سے جاری بدامنی کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر کے این ترپاٹھی نے آج کہا کہ یونیورسٹی تیزی سے 'بدامنی کے ایک مرکز' کے طور پر تبدیل ہو رہی ہے اور حکام کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

    • Share this:
      کولکتہ۔ جادو پور یونیورسٹی میں کل سے جاری بدامنی کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر کے این ترپاٹھی نے آج کہا کہ یونیورسٹی تیزی سے 'بدامنی کے ایک مرکز' کے طور پر تبدیل ہو رہی ہے اور حکام کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ ترپاٹھی نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے ایک مرکز کے طور پر معروف جادوپور یونیورسٹی تیزی سے بدامنی کے مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حکام کو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ ترپاٹھی یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جادو پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے واقعہ کے سلسلے میں رپورٹ مانگیں گے، ترپاٹھی نے کہا کہ ہم نے ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ وویک اگنی ہوتری کی ہدایت کاری میں بنی سیاسی پس منظر کی فلم بدھا ان اے ٹریفک جام کی اسکریننگ کو لے کر کل یونیورسٹی کیمپس میں طالب علموں کے حریف گروپوں کے درمیان تصادم ہو گیا تھا۔ تصادم کی وجہ سے بد نظمی پھیل گئی تھی جبکہ کچھ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی واردات ہوئی اور اداکارہ سے بی جے پی لیڈر بنی روپا گنگولی کو احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

      حکام نے بتایا کہ کل دیر شام فلم کی اسکریننگ کے بعد ہنگامہ شروع ہوا اور اے بی وی پی کے طالب علموں کا بائیں بازو حامی طالب علم تنظیموں کے ارکان کے ساتھ تصادم ہو گیا جس میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔
      First published: