உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Elections: کووڈ۔19 کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعہ انتخابی جنگ! تمام پارٹیوں میں لگی ہوڑ

    پچھلے انتخابات کے دوران ایس پی نے ایک ’سماج وادی ڈیجیٹل فورس‘ (ایس ڈی ایف) قائم کیا تھا، جس نے کروڑوں ووٹروں کو واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جوڑا تھا۔ ہر ضلع میں ایس ڈی ایف لوگوں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے کے لیے دو رضاکاروں کو چارج دیتا ہے۔

    پچھلے انتخابات کے دوران ایس پی نے ایک ’سماج وادی ڈیجیٹل فورس‘ (ایس ڈی ایف) قائم کیا تھا، جس نے کروڑوں ووٹروں کو واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جوڑا تھا۔ ہر ضلع میں ایس ڈی ایف لوگوں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے کے لیے دو رضاکاروں کو چارج دیتا ہے۔

    پچھلے انتخابات کے دوران ایس پی نے ایک ’سماج وادی ڈیجیٹل فورس‘ (ایس ڈی ایف) قائم کیا تھا، جس نے کروڑوں ووٹروں کو واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جوڑا تھا۔ ہر ضلع میں ایس ڈی ایف لوگوں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے کے لیے دو رضاکاروں کو چارج دیتا ہے۔

    • Share this:
      جب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) نے کہا کہ چھوٹی پارٹیاں اتر پردیش انتخابات میں ڈیجیٹل میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن (ای سی) سے درخواست کی کہ دوسری جماعتوں کے لیے مساوی میدان فراہم کریسں وہ اپنی پارٹی کے عظیم الشان ڈیجیٹل منصوبوں کو کم کر رہا تھا، جس میں واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر اور انسٹاگرام لائیو کا استعمال شامل ہے۔

      پچھلے انتخابات کے دوران ایس پی نے ایک ’سماج وادی ڈیجیٹل فورس‘ (ایس ڈی ایف) قائم کیا تھا، جس نے کروڑوں ووٹروں کو واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جوڑا تھا۔ ہر ضلع میں ایس ڈی ایف لوگوں کو واٹس ایپ گروپس میں شامل کرنے کے لیے دو رضاکاروں کو چارج دیتا ہے۔ چونکہ گروپس میں فی الحال 256 ممبران کی حد ہے۔ اسی لیے رضاکاروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ مختلف گروپس بنائیں تاکہ وہ منو ممبروں کے طور پر ایڈجسٹ کر سکیں۔

      ذرائع کے مطابق پارٹی نے ایک بار پھر ایس ڈی ایف کو فعال کر دیا ہے، جسے وہ بنیادی طور پر پارٹی رہنماؤں کی تقاریر، تشہیری مواد اور مہم کی مختصر ویڈیوز اور تصاویر بھیجنے کے لیے استعمال کریں گے۔ ایس ڈی ایف کے ان گروپس کا استعمال مختلف پروگراموں اور پریس کانفرنسوں کے لائیو لنکس فراہم کرکے ایس پی سربراہ اور دیگر لیڈروں کے پیغام کو بڑھانے کے لیے بھی کیا جائے گا۔ پارٹی ریاست کے دیہی علاقوں میں ناقص نیٹ کنیکٹیویٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختصر ویڈیوز پر ٹیکسٹ امیجز پر توجہ مرکوز کرے گی۔

      یادو اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن کے پیروکاروں کی اچھی تعداد ہے، انتخابی مہم کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پارٹی مختلف اضلاع میں مقامی یوٹیوبرز کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے تازہ ترین رہنما خطوط کے بعد پارٹی گھر گھر مہم کے لیے پانچ رکنی ٹیم بھیجنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

      دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مہمات مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یعنی فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب پر بھی لائیو نشر کی جائیں گی۔ پارٹی انتخابی مہم میں مدد کے لیے ایل ای ڈی اسکرین والی گاڑیوں کی مدد لینے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: