ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

جے ڈی یو میں انضمام کی قیاس آرائی کے دوران اوپیندر کشواہا کو بڑا جھٹکا ، ریاستی صدر سمیت کئی لیڈر آر جے ڈی میں شامل

نتیش کمار کی پارٹی جنتادل یونائٹیڈ میں انضمام کی قیاس آرائی کے درمیان اوپیندر کشواہا کو بہار میں بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ اوپیندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے ریاستی صدر سمیت کئی بڑے لیڈران آر جے ڈی میں شامل ہوگئے ہیں ۔

  • Share this:
جے ڈی یو میں انضمام کی قیاس آرائی کے دوران اوپیندر کشواہا کو بڑا جھٹکا ، ریاستی صدر سمیت کئی لیڈر آر جے ڈی میں شامل
جے ڈی یو میں انضمام کی قیاس آرائی کے دوران اوپیندر کشواہا کو بڑا جھٹکا ، ریاستی صدر سمیت کئی لیڈر آر جے ڈی میں شامل

بہار کی سیاست میں لو۔ کش جوڑتوڑ ایک مرتبہ پھر سے ساتھ آنے والا ہے ۔ دراصل راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی) کا جنتادل یونائٹیڈ میں انضمام کی اسکرپٹ تیار ہوچکی ہے ، لیکن اس اسکرپٹ سے پہلے آر ایل ایس پی سربراہ اوپیندر کشواہا کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ ان کے ریاستی صدر سمیت کئی لیڈران آر جے ڈی میں شامل ہوگئے ہیں ۔


اوپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی کے ریاستی صدر ویریندر کشواہا ، ریاستی جنرل سکریٹری نرمل کشواہا ، وومین سیل کی سربراہ مدھو منجری کارکنان کے ساتھ آر جے ڈی میں شامل ہوگئے ہیں ۔ دراصل اوپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی کا نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو میں انضمام ہونے جارہا ہے ۔ دونوں لیڈروں کے درمیان کئی دور کی میٹنگیں بھی ہوچکی ہیں ۔ مانا جارہا ہے کہ 14 مارچ کو اوپیندر کشواہا اپنی پارٹی کی اہم میٹنگ کے بعد اس کو لے کر حتمی فیصلہ بھی لینے والے ہیں ۔ لیکن یہ فیصلہ ہونے سے پہلے ہی پارٹی میں ٹوٹ نظر آرہی ہے ۔


بہار میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی آر ایل ایس پی کے اس وقت کے صدر بھودیو چودھری نے اوپیندر کشواہا کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔ الیکشن نتائج کے بعد قومی خزانچی راجیش یادو اور قومی ترجمان پروفیسر سبودھ مہتا بھی پارٹی چھوڑ کر لالٹین کا دامن تھام چکے ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں اوپیندر کشواہا کی پارٹی میں زبردست ٹوٹ ہوئی ہے ، جو ابھی تک جاری ہے ۔ ایسے میں مسلسل لگ رہے ان جھٹکوں کا انضمام کا کیا اثر پڑتا ہے ، یہ دیکھنے والی بات ہوگی ۔


آپ کو بتادیں کہ یوں تو نتیش کمار اور اوپیندر کشواہا کا ساتھ طویل رہا ہے ، لیکن 2013 میں ناراضگی کے بعد اوپیندر کشواہا نے جے ڈی یو چھوڑ کر اپنی الگ پارٹی بنالی تھی ۔ حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی اوپیندر کشواہا کی پارٹی کو کوئی کامیابی نہیں ملی تھی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 12, 2021 04:33 PM IST