உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفرپورمیں سیدشاہ علی ابدال رحمۃ اللہ کاعرس مبارک اختتام پذیر

    جمعہ کو مظفرپورکے روہُوامیں سید شاہ علی ابدال رحمۃ اللہ علیہ کا 456 واں عرس مبارک اختتام پذیرہوا

    جمعہ کو مظفرپورکے روہُوامیں سید شاہ علی ابدال رحمۃ اللہ علیہ کا 456 واں عرس مبارک اختتام پذیرہوا

    جمعہ کو مظفرپورکے روہُوامیں سید شاہ علی ابدال رحمۃ اللہ علیہ کا 456 واں عرس مبارک اختتام پذیرہوا

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      مظفرپور : بہارکے مظفرپورمیں ان دنوں چہارجانب روحانی فضا نظرآرہی ہے۔ عید کے بعد ضلع میں بزرگوں کے آستانوں پرشروع ہونے والاعرس کاسلسلہ اب تک جاری ہے۔ جمعہ کو مظفرپورکے روہُوامیں سیدشاہ علی ابدال رحمۃ اللہ علیہ کا 456 واں عرس مبارک اختتام پذیرہوا۔
      یوں تو مظفرپورضلع میں ولیوں کے مقدس آستانوں کی کمی نہیں، لیکن شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر روہُوا گاؤں میں واقع سید شاہ علی ابدال کی درگاہ عوام میں زیادہ مقبول ہے۔ عقیدت مندوں کے مطابق سیدشاہ علی ابدال بڑے بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کے خاندان سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے ان کے آستانہ پرصوفیا کے تمام سلسلوں سے وابستہ افراد کافی عقیدت اوراحترام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔
      سید شاہ علی ابدال شمالی بہارکے ان چند اولیا میں شامل ہیں ، جن کا تذکرہ بہار کی تاریخ پر لکھی گئی قدیم کتابوں میںبھی ملتا ہے۔ بہارکی تاریخ لکھنے والے کئی معتبر ہندو مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں سید شاہ علی ابدال کی عوامی خدمات اوران کے کرامات کا ذکر کیا ہے۔ ان کتابوں میں بابو بہاری لال فطرت کی تحریرکردہ کتاب آئینہ ترہت شامل ہے۔ مؤرخین کی کتابوں میں سید شاہ علی ابدال کا شجرہ نسب بھی موجود ہے۔ وہ شجرہ نسب سیدشاہ علی ابدال کے آستانہ کی دیوار پر بھی کندہ ہے۔
      تاریخی حوالوں سےپتہ چلتا ہے کہ سیدشاہ علی ابدال کے آبا و اجداد نے کئی برس تک بنگال پرحکمرانی کی۔ انہوں نے مادی تخت تاج والی حکمرانی کو ناپسند کیا اور عوام کی روحانی اصلاح کے لیے روحانی بادشاہت یعنی فقیری اختیارکرلی۔ سید ابدال آج سےتقریباً پانچ سوبرس قبل بنگال سے بہارکے مظفرپورمیں واقع روہُوا گاؤں تشریف لے آئے تھے اوریہیں اللہ کوپیارے ہوگئے۔
      سیدشاہ علی ابدال سے عوام کی عقیدت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے آستانہ پرکافی تعداد میں ہندوعقیدت مندبھی تشریف لاتے ہیں۔ سید شاہ علی نے مظفرپورتشریف لانے کے بعد جو خانقاہ قائم کی ، اس کی سیکڑوں سال پرانی دیوار کا تھوڑاساحصہ آج بھی موجود ہے۔ اتنا ہی نہیں ان کے مزار کے باہر ایک لمبا چوڑا پاکرکا درخت بھی ان کے زمانہ کا ہی ہے۔ بتایاجا تا ہے کہ انہوں نے مسواک کرنے کے بعد اپنی مسواک زمین میں ڈال دی تھی اور اسی مسواک سے یہ طاقتور اور تناور درخت وجود میں آیا ، جوآج بھی زندہ ہے۔
      First published: