ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے راوت سے سینئر وکیل کاعہدہ واپس مانگا

اتراکھنڈ خانہ ہائی کورٹ نے ایک سینئر وکیل سے غلط بیانی اور غیر اخلاقی برتائو کا مجرم تسلیم کرتے ہوئے ان سے ان کا عہدہ واپس لینے کافیصلہ کیاہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے راوت سے سینئر وکیل کاعہدہ واپس مانگا
اتراکھنڈ خانہ ہائی کورٹ نے ایک سینئر وکیل سے غلط بیانی اور غیر اخلاقی برتائو کا مجرم تسلیم کرتے ہوئے ان سے ان کا عہدہ واپس لینے کافیصلہ کیاہے۔

اتراکھنڈ خانہ ہائی کورٹ نے ایک سینئر وکیل سے غلط بیانی اور غیر اخلاقی برتائو کا مجرم تسلیم کرتے ہوئے ان سے ان کا عہدہ واپس لینے کافیصلہ کیاہے۔ جسٹس لوکپال سنگھ نے سینئر وکیل اوتار سنگھ سے ان کا عہدہ واپس لینے کا مشورہ دیاہے۔ انہوں نے اس معاملے کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کے احکامات دیئے ہیں۔


جسٹس لوکپال سنگھ کی بنچ نے کہاکہ یہ بالکل واضح ہے کہ سینئر وکیل بننے کے بعد اوتار سنگھ راوت نے عدالت کی جانب سے دیئے گئے عہدے کا  غلط استعمال کیا۔


عدالت کا خیال ہے کہ وہ سینئر وکیل بننے کے قابل نہیں ہیں، لہٰذا راوت کے سینئر وکیل کا عہدہ چھیننے منسوخ کرنے کے لئے یہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنا چاہئے۔ یہ فیصلہ فروری میں دیا گیا تھا، لیکن اسے پیر کو جاری کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جج نے اس وقت 'غیر معمولی حکم میں کچھ ضروری تبدیلی کرنے میں جج کو تھوڑا وقت لگ گیا۔ جسٹس سنگھ اس بات پر ناراض ہوئے کہ وکیل راوت کئی سال پہلے اپنے جس کلائنٹ کی وکالت کی ہے، اب وہ اس کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

First published: Apr 10, 2018 10:23 PM IST