உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چندی گڑھ یونیورسٹی ایک قلعے میں تبدیل، لدھیانہ ہائی وے  پر بھی زبردست احتجاج

    کیمپس میں ریپڈ ایکشن فورس (RAF) سمیت پولیس کی مزید نفری تعینات کی

    کیمپس میں ریپڈ ایکشن فورس (RAF) سمیت پولیس کی مزید نفری تعینات کی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جب وارڈن نے مبینہ طور پر معاملے کو چھپانے کی کوشش کی تو ایک گھنٹے بعد طلبہ نے ہاسٹل کے واٹس ایپ گروپ پر واقعے کے بارے میں پیغام بھیجا۔ احتجاج کی کال بھی دی گئی اور سینکڑوں طلبہ بشمول دیگر ہاسٹلز کے لڑکے رات 9 بجے کے قریب ہاسٹل کے باہر جمع ہوگئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Chandigarh | Mumbai | Delhi | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      گھاروان میں چندی گڑھ یونیورسٹی (Chandigarh University) ایک قلعے میں تبدیل ہوگئی کیونکہ ہاسٹل میں رہنے والی متعدد لڑکیوں سے متعلق مبینہ لیک ہونے والی ویڈیوز کے خلاف طلبہ کے زبردست احتجاج کے بعد بھاری پولیس فورس کیمپس میں جمع ہوگئی۔ یہ سب ہفتہ کی شام 4 بجے کے قریب شروع ہوا، جب ایل سی 3 ہاسٹل میں چند لڑکیوں نے ملزم طالبہ کو واش روم میں ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا اور معاملہ وارڈن کے نوٹس میں لایا۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق جب وارڈن نے مبینہ طور پر معاملے کو چھپانے کی کوشش کی تو ایک گھنٹے بعد طلبہ نے ہاسٹل کے واٹس ایپ گروپ پر واقعے کے بارے میں پیغام بھیجا۔ احتجاج کی کال بھی دی گئی اور سینکڑوں طلبہ بشمول دیگر ہاسٹلز کے لڑکے رات 9 بجے کے قریب ہاسٹل کے باہر جمع ہوگئے۔

      اسی دوران یونیورسٹی کے حکام نے پولیس کو طلب کیا جو رات 10.30 بجے کے قریب کیمپس پہنچی تاکہ نعرے لگانے والے طلبہ کی بڑی بھیڑ کو تلاش کیا جا سکے اور اسے منتشر کردیا جائے۔ آدھی رات کے کچھ ہی دیر بعد دو طالب علم بے ہوش ہو گئے اور انہیں غوران کے سول ہاسپٹل لے جایا گیا۔

      صبح کے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے کیمپس میں ریپڈ ایکشن فورس (RAF) سمیت پولیس کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے۔ کیمپس کے دروازے بند کر دیے گئے، میڈیا والوں کے علاوہ کسی کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ میڈیا والوں کو شناختی کارڈ پیش کرنے کو بھی کہا گیا۔ یہاں تک کہ جب پولیس نے طالب علموں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ملزم طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور یہ کہ اس نے صرف اپنی ذاتی ویڈیو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ شیئر کی اور دیگر طالب علموں کی کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں ملی، طالب علموں نے ان پر یقین کرنے سے انکار کر دیا اور ایک بڑے احتجاج کے بعد اب وھ واپس آ گئے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      کئی طالبات کے قابل اعتراض ویڈیوز کے لیک ہونے کے بعد طالبات مزید بے چین اور غصے میں آگئیں اور تقریباً 2.30 بجے اپنا احتجاج لدھیانہ ہائی وے پر ٹول پلازہ کی طرف بڑھا، جہاں وہ صبح 4 بجے تک کھڑی رہیں۔ پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنے پر مجبور کیا گیا جب مظاہرین نے ان پر پتھراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزم طالب علم کو ان کے حوالے کیا جائے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: