உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال : سابق مرکزی وزیر سلطان احمد کی بیوہ ساجدہ احمد کی 4 لاکھ سے زاید ووٹوں سے بڑی جیت

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    سابق مرکزی وزیر سلطان احمد بیوہ ساجدہ اہم نے الوبیڑیا پالیمانی حلقہ میں ہوئے ضمنی انتخاب میں 4.74لاکھ ووٹوں سے جیت درج کی ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کلکتہ : سابق مرکزی وزیر سلطان احمد بیوہ ساجدہ اہم نے الوبیڑیا پالیمانی حلقہ میں ہوئے ضمنی انتخاب میں 4.74لاکھ ووٹوں سے جیت درج کی ۔مغربی بنگال کے میں ایک پارلیمنٹ اور اسمبلی حلقے میں ہوئے ضمنی انتخاب کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا ’دیدی‘ کا دبدبہ برقرار ہے اور بی جے پی اور سی پی ایم کے درمیان دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے کی جنگ جاری ہے ۔خیال رہے کہ نوپاڑہ اسمبلی حلقے میں حکمراں ترنمول کانگریس نے نوا پارہ اسمبلی ضمنی انتخاب کو 63,000ہزار ووٹوں سے جیت درج کرلی ہے ۔
      الوبیڑیا سے ترنمول کانگریس کی امیدوار ساجدہ احمد نے 5,88,211ووٹوں ووٹ حاصل کیا ہے ۔جب کہ بی جے پی کے امیدوار انوپم ملک 2,18,807 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر تھے۔جب کہ تیسرے نمبر پر سی پی ایم اور چوتھی پوزیشن پر کانگریس کے امیدوار رہے۔44فیصد مسلم آبادی والے حلقے میں ترنمول کانگریس، کانگریس اور سی پی ایم نے مسلم امیدوار کھڑا کیا تھا۔
      اس کی وجہ سے مسلم و سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ تھا ۔بی جے پی کو یہاں بہت ہی امید تھی کہ چوں کہ گزشتہ دو تین سالوں میں الوبیڑیا اور آس پاس کے علاقے میں فرقہ وارانہ جھڑپ کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں ۔جس کی وجہ سے یہاں پر پولرائزیشن کا بڑا خطرہ تھا ۔مگر ممتا بنرجی کے جادو نے پولرائزیشن کی سیاست کو پوری طرح ناکام کردیا۔بلکہ گزشتہ پارلیمانی انتخاب کے مقابلے ترنمول کانگریس کے امیدوار کو زیادہ ووٹ ملا ہے ۔
      مرحوم سلطان احمد اس حلقے سے 2009اور 2014میں کامیاب ہوئے تھے۔عوامی مزاج ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں پر ان کی گرفت مضبوط تھی اور وہ اپنے دفتر میں اپنے حلقے انتخابات کے لوگوں سے ملاقات کرتے تھے اور ترجیحی بنیاد پر ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ 4ستمبر 2017کو اچانک انتقال کی وجہ سے پورے حلقے میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی اور ان کے خاندان کے تئیں بہت ہی زیادہ ہمدردی تھی۔ترنمول کانگریس کو اس حلقے میں پہلے سے ہی جیت کا یقین تھا ۔ترنمو ل کانگریس کے لیڈران دو لاکھ ووٹوں سے جیت کا دعویٰ کررہے تھے مگر 4لاکھ ووٹوں سے کامیابی نے ترنمول کانگریس کے حوصلے بلند کیا ۔پورے 8مرحلے کی ووٹنگ میں کہیں بھی ترنمول کانگریس مشکل میں نظر نہیں آئی ۔
      نوپاڑہ اسمبلی حلقے میں ترنمول کانگریس کے امیدوار سنیل سنگھ کو کل 10,1720ووٹ ملے ہیں ۔حیرت انگیز طور پر بی جے پی یہاں پر دوسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔بی جے پی امیدوار کو 38,000ووٹ ملے ہیں ۔جو سی پی ایم امیدوار سے 3ہزار ووٹ زاید ہے ۔اس علاقے پر ترنمول کانگریس کے سابق ہیوی ویٹ لیڈر مکل رائے جو چند مہینے قبل ہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے کا اچھا خاصا دبدبہ سمجھا جارہا تھا ۔مگر اس کے باوجود ترنمول کانگریس ایک بڑے فرق سے جیت درج کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔2016میں کامیابی حاصل کرنے والی کانگریس کیے امیداور کو محض 101720ووٹ ہی ملے ہیں ۔
      First published: