ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

انوکھی مثال : قرون وسطیٰ کی 34مندروں کے تحفظ کیلئےچار دہائیوں سے جد وجہد کررہا ہے یاسین پٹھان

مغربی مدنی پور کے ہتھیالکاگاؤں کے رہنے والے 64سالہ محمد یاسین پٹھان نے 1976میں ان مندروں کے تحفظ کی مہم کی شروعات کی تھی۔1994میں صدر جمہوریہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کبیر ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 28, 2016 07:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
انوکھی مثال : قرون وسطیٰ کی 34مندروں کے تحفظ کیلئےچار دہائیوں سے جد وجہد کررہا ہے یاسین پٹھان
علامتی تصویر

کلکتہ: مغربی بنگال کے مدنی پور ضلع میں کنسائی ندی کے قریب واقع قرن وسطی کی 34مندروں کے تحفظ کیلئے چار دہائیوں کے زاید عرصے سے ایک اسکول ریٹائرڈ چپراسی محمد یاسین پٹھان نہ صرف کوشش کررہے ہیں بلکہ انہیں کئی محاذوں پر مخالفتوں کا بھی سامنا ہے ۔

مغربی مدنی پور کے ہتھیالکاگاؤں کے رہنے والے 64سالہ محمد یاسین پٹھان نے 1976میں ان مندروں کے تحفظ کی مہم کی شروعات کی تھی۔1994میں صدر جمہوریہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کبیر ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

پٹھان نے کہا کہ جب مندروں کی تعمیر کی گئی تھی ہم متحدتھے ہم نے ہندؤں بھائیوں کی مدد کی ۔ان مندروں کے تحفظ کیلئے ہم نے کمیٹی تشکیل کی ۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ مندر، مسجد، گرجا اور دیگر مذہبی مقامات سب قومی خزانہ ہے ۔ ماضی کی یادو عظمت کو زندہ رکھنے کیلئے ان مندروں کی حفاظت ضروری ہے۔

محمد یاسین نے کہاکہ 16جولائی 2003کو حکومت ہند نے 34مندروں کے تحفظ کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کیا۔اب آرجیولوجیکل سروے آف انڈیا نے 19مندروں کو محفوظ کرلیا ہے اور 15کا کام باقی ہے ۔

محمد یاسین کے کاموں سے مقامی ہندو اور مسلمانوں دونوں خوش ہیں ۔مقامی باشندہ تارک ناتھ ہلدار نے کہا کہ یہ مندریں کافی قدیم ہیں ۔ہم اپنے بچپن سے ہی ان مندروں کے تحفظ کیلئے کوشش کررہے ہیں ۔محمد یاسین پٹھان مسلمان ہونے کے باوجود مندروں کے تحفظ کیلئے کوشش کررہے ہیں ۔

First published: Oct 28, 2016 06:40 PM IST