உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال : ٹی ایم سی نہیں چھوڑنے کا شتابدی رائے کو ملا انعام! پارٹی نے دی بڑی ذمہ داری

    مغربی بنگال : ٹی ایم سی نہیں چھوڑنے کا شتابدی رائے کو ملا انعام! پارٹی نے دی بڑی ذمہ داری ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    مغربی بنگال : ٹی ایم سی نہیں چھوڑنے کا شتابدی رائے کو ملا انعام! پارٹی نے دی بڑی ذمہ داری ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    شتابدی رائے نے اپنے اسمبلی حلقہ میں پارٹی کے پروگرام کے بارے میں اطلاع نہیں دئے جانے کو لے کر جمعہ کو عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ۔

    • Share this:
      ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ شتابدی رائے کو اتوار کو پارٹی کی مغربی بنگال یونٹ کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ بیربھوم سے ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ شتابدی نے مختصر مدت کی بغاوت کے بعد پارٹی سے سمجھوتہ کرلیا ۔ اس سے پہلے ان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کی قیاس آرائی زوروں پر تھی ۔ شتابدی رائے وزیر اعلی ممتا بنرجی کی قریبی مانی جاتی ہیں ۔

      پارٹی میں ایک اہم ذمہ داری دئے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شتابدی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ پارٹی کی ایک وقف کارکن کے طور پر کام کریں گی اور اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کو یقینی بنائیں گی ۔ ریاست میں اپریل ۔ مئی میں اسمبلی انتخابات ہونے کا امکان ہے ۔ شتابدی نے کہا کہ اگر آپ پارٹی سے وابستہ مسائل کو اعلی قیادت تک لے جاتے ہیں تو اس کا حل ہوجاتا ہے ۔ یہ واقعہ یہی ثابت کرتا ہے ۔

      انہوں نے پارٹی تنظیم میں تبدیلی کے تحت انہیں ریاستی یونٹ کا نائب صدر مقرر کئے جانے پر کہا کہ میں فیصلہ کا خیرمقدم کرتی ہوں ۔ اداکاری کی دنیا سے سیاست میں آئیں شتابدی رائے ممتا بنرجی کی پارٹی کے فلم کلچرل سے وابستہ لوگوں میں اہم چہرہ ہیں ۔ بیر بھوم سے وہ مسلسل تیسری مرتبہ لوک سبھا رکن بنی ہیں ۔

      وہ ان سرکردہ لیڈروں میں شامل ہیں جو 2009 میں ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کے سنگور اور نندی گرام آندولن میں شامل رہی تھیں ۔ ان آندولنوں نے ریاست میں لیفٹ اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا اور ممتا بنرجی کیلئے ریاست کی اقتدار پر قابض ہونے کی راہ ہموار کی تھی ۔

      شتابدی رائے نے اپنے اسمبلی حلقہ میں پارٹی کے پروگرام کے بارے میں اطلاع نہیں دئے جانے کو لے کر جمعہ کو عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: