உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگال میں پیر زادہ کی آئی ایس ایف سے اتحاد پر کانگریس میں اختلاف، آنند شرما نے اٹھائے سوال تو ملا سخت جواب

    بنگال میں پیر زادہ سے اتحاد پر کانگریس میں اختلاف، آنند شرما نے اٹھائے سوال تو ملا سخت جواب

    بنگال میں پیر زادہ سے اتحاد پر کانگریس میں اختلاف، آنند شرما نے اٹھائے سوال تو ملا سخت جواب

    راجیہ سبھا میں کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’آئی ایس ایف اور ایسی دیگر جماعتوں کے ساتھ کانگریس کا اتحاد پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف ہے، جو کانگریس پارٹی کی آتما ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات (West Bengal Assembly Election 2021) کے لئے کانگریس (Congress) نے لیفٹ کے ساتھ حال ہی میں نو تشکیل شدہ آئی ایس ایف کے ساتھ بھی اتحاد کیا ہے، لیکن غلام نبی آزاد کے ساتھ کانگریس کے باغی لیڈروں کے گروپ کا اہم چہرہ آنند شرما  (Anand Sharma) نے اس اتحاد کو پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف بتایا ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’آئی ایس ایف اور ایسی دیگر جماعتوں کے ساتھ کانگریس کا اتحاد پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف ہے، جو کانگریس پارٹی کی آتما ہے۔ ان موضوعات پرکانگریس ورکنگ کمیٹی میں غوروخوض ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید لکھا، ’فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں کانگریس منتخب (سلیکٹیو) نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کی ہر شکل سے لڑنا ہے۔ مغربی بنگال پردیش کانگریس صدر کی موجودگی اور حمایت شرمناک ہے، انہیں اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘۔

      آنند شرما پر ادھیر رنجن چودھری کا پلٹ وار

      پیرزادہ کے ساتھ اتحاد پر آنند شرما کے ذریعہ سوال اٹھائے جانے پر بنگال کانگریس صدر ادھیر رنجن چودھری نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہلی میں پارٹی لیڈر شپ کے دستخط کے بغیر کوئی بھی فیصلہ ذاتی طور پر نہیں لیا۔ اے این آئی سے ادھیر رنجن نے کہا، ’ہم ایک ریاست کے انچارج ہیں اور ذاتی طور پر کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں‘۔ بنگال میں کانگریس کی لڑائی ممتا بنرجی اور بی جے پی کے خلاف ہے، یہاں کانگریس کو لیفٹ کا ساتھ ملا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کو کانگریس - لیفٹ اتحاد کے ساتھ بی جے پی اور دیگر پارٹیوں سے بھی مقابلہ کرنا ہے۔

      بی جے پی نے ممتا بنرجی کے خلاف جارحانہ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ حالانکہ کیرل میں کانگریس اور لیفٹ کے درمیان چھتیس کا آںکڑا ہے۔ ادھیر رنجن چودھری سمیت بنگال کانگریس کے لیڈروں نے مولانا عباس صدیقی کے ساتھ اتحاد کو لے کر اپنی تشویش کو پارٹی ہائی کمان کے سامنے رکھا تھا، لیکن اعلیٰ قیادت نے اتحاد کو ہری جھنڈی دے دی۔

      متنازعہ بیانات دینے کا لگتا رہا ہے الزام

      پیر زادہ عباس صدیقی کو بنگال میں ان کے چاہنے والے ’بھائی جان‘ کہہ کر بلاتے ہیں، لیکن ان کی شناخت متنازعہ بیانات دینے کے لئے ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے مذہبی پروگرام میں خطاب سے متعلق عباس صدیقی کو متنازعہ بتایا جاتا رہا ہے۔ عباس صدیقی کو لے کر کانگریس لیڈر بھلے سوال اٹھاتے رہے ہوں، لیکن لیفٹ کے لیڈروں کو نہیں لگتا کہ انڈین سیکولر فرنٹ فرقہ پرست ہے۔ کانگریس کا لیفٹ کے  ساتھ اتحاد بنگال میں ضروری ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: