ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

اوبی سی ووٹوں پر ہے ٹی ایم سی ۔ بی جے پی کی نظر ، ریزرویشن کے وعدوں سے سادھنے کی کوشش

West Bengal Assembly Election 2021 : مغربی بنگال الیکشن میں ہر پارٹی کی نظر ریاست کے او بی سی ووٹ پر ہے ۔ ٹی ایم سی اور بی جے پی نے اس بابت الگ الگ اعلانات کئے ہیں ۔

  • Share this:
اوبی سی ووٹوں پر ہے ٹی ایم سی ۔ بی جے پی کی نظر ، ریزرویشن کے وعدوں سے سادھنے کی کوشش
اوبی سی ووٹوں پر ہے ٹی ایم سی ۔ بی جے پی کی نظر ، ریزرویشن کے وعدوں سے سادھنے کی کوشش

مغربی بنگال میں ہر پارٹی کی نظر ریاست کے او بی سی ووٹ پر ہے ۔ ایک جانب ترنمول کانگریس نے جہاں اپنے انتخابی منشور میں اعلان کیا ہے کہ وہ تامل ، شاہ اور تلی ذاتوں کو او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں لائے گی تو وہیں دوسری جانب بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ان کمیونٹی کو او بی سی زمرہ میں ریزرویشن دے گی ۔


سال 2019 کے لوک سبھا نتائج کو دیکھیں تو بی جے پی کو ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے غلبہ والے علاقوں میں خاص طور پر جنوبی بنگال میں فائدہ ملا ، جس نے بی جے پی کو ترنمول کے گڑھ میں سیندھ لگانے میں مدد کی ۔ اگر ایس سی ایس ٹی ووٹوں کے ٹرانسفر سے بی جے پی کو جنگ محل ، شمالی 24 پرگنہ اور ندیا میں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملی تو او بی سی ووٹوں کے شفٹنگ نے پارٹی کو مشرقی اور مغربی مدناپور ، ہگلی اور ہاوڑہ جیسے اضلاع میں سیٹیں جیتنے میں مدد کی ۔


جہاں بی جے پی اب اس گرفت کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے تو وہیں ترنمول کو امید ہے کہ ریزرویشن کا وعدہ او بی سی کو اس کے حق میں لائے گا ۔


2012 میں ٹی ایم سی نے یہ قانون پاس کیا تھا

پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد 2012 میں ترنمول حکومت نے مغربی بنگال پسماندہ ذات ( درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے علاوہ ) ایکٹ 2012 پاس کیا تھا ، جو کچھ دیگر پسمانہ ذاتوں کیلئے ریزرویشن فراہم کرتا ہے ۔ صدیقی اور سید کو چھوڑ کر سبھی مسلم کمیونٹی فہرست میں او بی سی اے یا او بی سی بی کے طور پر شامل ہیں ۔ ہندووں کے معاملہ میں او بی سی فہرست میں کنساری ، کہار ، مدیس ، کپالی ، کرمکار ، کمبھکار ، کرمی ، مجی ، مودک ، نیپیٹس ، سوتردھار ، سورن کار ، تیلس اور کولس شامل تھے ۔

مغربی بنگال حکومت کے پسماندہ طبقہ بہبود محکمہ کے مطابق اس نے تقریبا 38 لاکھ او بی سی سرٹیفکیٹ جاری کئے ہیں ۔ حال ہی میں سرکار نے 'دوارے سرکار پروگرام' کے تحت مزید ہزاروں نامزدگیوں کا وعدہ کیا ہے ۔ اس وقت مہسی ، تومر ، تلی اور ساہ جیسے گروپوں کو او بی سی زمرہ سے باہر رکھا گیا تھا کیونکہ یہ مانا جاتا تھا کہ ان برادریوں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں اور پہلے سے ہی مین اسٹریم کا حصہ ہیں ۔

اپنے وعدوں پر ٹی ایم سی اور بی جے پی کا کیا ہے کہنا ؟

انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق مغربی بنگال کے وزیر فرحاد حکیم نے کہا کہ ترنمول کا منشور ووٹ بینک حاصل کرنے کے مقصد نہیں جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ دلتوں کیلئے کچھ کرنے کیلئے پرجوش رہتی ہیں ۔ انہوں نے ان کیلئے کھانا ، گھر اور صحت سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اب کئی نئے گروپ اسی طرح کا مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ پسماندہ ہیں ، ہم نے اس پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہماری حکومت یہ طے کرے گی کہ او بی سی فہرست میں شامل ہونے کے اہل ہیں یا نہیں ۔

وہیں بی جے پی ترجمان سمک بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان کا وعدہ ترنمول کی تقسیم کرنے والی سیاست کی طرح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ جو لوگ منڈل کمیشن کے مطابق ریزرویشن پانے کے اہل ہیں ، ہم دیں گے ۔ یہ سننے کے بعد ممتا بنرجی نے مہیسیا اور دیگر گروپس کے بارے میں اعلان کیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 19, 2021 07:51 AM IST