ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کیرلا، پنجاب اور راجستھان کے بعد مغربی بنگال میں سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور

مغربی بنگال (West Bengal) اسمبلی میں پیرکو شہریت قانون کے خلاف قرارداد منظورکی گئی۔ مغربی بنگال ملک کی چوتھی ریاست ہے، جہاں سی اے اے (CAA) کے خلاف قرار داد منظور ہوئی۔

  • Share this:
کیرلا، پنجاب اور راجستھان کے بعد مغربی بنگال میں سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور
مغربی بنگال اسمبلی میں سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور۔

کولکاتا: کیرلا، پنجاب اور راجستھان کےبعد اب مغربی بنگال حکومت نے شہریت ترمیمی قانون کےخلاف قرار داد منظور کی گئی ہے۔ سی اے اے کے خلاف تجویز پر اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نےکہا، 'اختلافات کو دور رکھنے اور ملک کو بچانےکےلئے متحد ہونےکا وقت آگیا ہے۔ سی اے اے عوام مخالف ہے، اس قانون کو فوراً منسوخ کیا جانا چاہئے'۔ ممتا بنرجی نےکہا کہ دہلی میں این پی آر کی میٹنگ میں شامل نہیں ہونے کی مغربی بنگال کے پاس قوت ہے۔ اگر بی جے پی چاہے تو میری حکومت برخاست کرسکتی ہے۔


ہمیں حکومت کی میٹنگ میں حصہ نہیں لینا چاہئے: ممتا


اس سے قبل کولکاتا کے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں پارٹی کے پروگرام میں ممتا بنرجی نےکہا کہ سی اے اے - این پی آر اور این آرسی کی مخالفت کرنے والی ریاستوں کو مرکز کے ذریعہ بلائی گئی این پی آر کی میٹنگ میں حصہ نہیں لینا چاہئےتھا۔ انہوں نےکہا کہ ترنمول کانگریس اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ہم نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے پاس ایک وفد بھی بھیجا تھا، جس میں 8 سیاسی جماعتوں نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔ حالانکہ اب مخالفت کرنے والی کئی پارٹیاں ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔


مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سی اے اے اور این آر سی کی مسلسل مخالفت کر رہی ہیں۔ فائل فوٹو: اے پی


ممتا بنرجی نے کہا- آئین کے اقدار کے خلاف ہے سی اے اے

ممتا بنرجی نےکہا کہ سی اے اے آئین کے اقدار کے خلاف ہے، جمہوریت کے جذبےکے خلاف ہے، یہ پوری طرح سےلوگوں کا فیصلہ ہے۔ سی پی ایم اور کانگریس کو بھی اس لڑائی میں ساتھ آنا چاہئے۔ ہم نے سب سے پہلے آواز اٹھائی۔ گزشتہ سال ستمبر میں بنگال اسمبلی میں سب سے پہلے این آر سی پر بحث کی گئی۔ ممتا بنرجی نےکہا کہ پورے ملک میں عدم رواداری اور نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ ہم ان لوگوں کی حمایت نہیں کر سکتے، جو اس ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

کیا ہے قرارداد میں

مغربی بنگال اسمبلی میں منظور کئےگئے قرار داد میں سی اے اے کو منسوخ کرنے، قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کو منسوخ کرنےکی اپیل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال ملک کی چوتھی ایسی ریاست بن گئی ہے، جہاں پر سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور کی گئی ہے۔ ریاست میں سی اے اے کو لےکرگھمسان چل رہا ہے۔ بی جے پی اس قانون کو ریاست میں نافذ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ وہیں ترنمول کانگریس اس کی پرزورمخالفت کر رہی ہے۔ اس سے پہلے راجستھان میں 25 جنوری 2020، پنجاب میں 17 جنوری 2020 اور کیرلا میں 31 دسمبر 2019 کو سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور کی گئی تھی۔
First published: Jan 27, 2020 06:31 PM IST