ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بی جے پی کے خلاف آواز اٹھانے والی ممتا بنرجی کے اپنے ہی لیڈران بی جے پی میں لے رہے ہیں پناہ

بی جے پی کا دعوی ہے کہ بڑی تعداد میں ترنمول لیڈران بی جے پی میں شامل ہوں گے ایسے میں ممتا بنرجی کے لیے اپنی پارٹی کی تاریخی حیثیت کو بحال رکھنا اپنی لڑائی کی جدوجہد کو جاری رکھنا مشکل ہورہا ہے۔

  • Share this:
بی جے پی کے خلاف آواز اٹھانے والی ممتا بنرجی کے اپنے ہی لیڈران بی جے پی میں لے رہے ہیں پناہ
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی فائل فوٹو

سیاست میں ہار جیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر پارٹی ایک دوسرے سے جیت کے لئے ہی مقابلہ کرتی ہے۔ جیت کے لیے طاقت لگاتی ہے اور اپنے حریف امیدوار کو سخت ٹکر دینے کی کوشش کرتی ہے۔  بنگال اسمبلی الیکشن کے لئے بھی ہر پارٹی جیت کی امید پر قسمت آزما رہی ہے لیکن ریاست کی برسر اقتدار ترنمول کانگریس کے اندرونی انتشار نے پارٹی کو بحرانی صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ریاست کی سیاست میں یہ پہلا موقع ہے جب برسر اقتدار جماعت کے لیڈران بڑی تعداد میں ایسی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جس کے خلاف ترنمول کانگریس ہمیشہ ہی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ جی ہاں ہم بات کررہے ہیں بی جے پی کی۔


بنگال کا سیاسی میدان میں بی جے پی کے لئے کبھی بھی مددگار نہیں رہا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب گزشتہ سال لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے ریاست میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور اب بی جے پی کی نظر اقتدار پر ہے جس کے لئے بی جے پی نے اپنی ساری طاقت لگا دی ہے۔ برسراقتدار جماعت کے لیڈران جس طرح بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں اس نے بی جے پی کے لئے شاید جیت کی راہ آسان کردی ہے۔ وہیں بنگال کی سیاست میں اپنی جدوجہد کے لیے جانے جانے والی ممتا بنرجی پارٹی کے اندرونی انتشار سے حیران اور پریشان ہیں۔ آخر ایک ایسے موقع پر ان کی پارٹی کے لیڈران ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں جب پارٹی الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی ہے اور پارٹی کے مضبوط چہرے بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔


بی جے پی کا دعوی ہے کہ بڑی تعداد میں ترنمول لیڈران بی جے پی میں شامل ہوں گے ایسے میں ممتا بنرجی کے لیے اپنی پارٹی کی تاریخی حیثیت کو بحال رکھنا اپنی لڑائی کی جدوجہد کو جاری رکھنا مشکل ہورہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم ووٹ بینک بھی پارٹی کے لئے ایک بڑی چنوتی ہے۔ ممتا بنرجی جہاں پارٹی کے اندرونی انتشار کو دور کرنے کی کوشش میں ہیں وہیں مسلمانوں کو بھی پارٹی کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے پوری طاقت لگا رہی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ترنمول کے اپنے ہی لیڈران پارٹی پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں تو ایسے میں ممتا بنرجی عوام کا بھروسہ قائم رکھنے میں کتنی کامیاب ہوں گی یہ دیکھنا اہم ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 18, 2020 03:44 PM IST