اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نظام الدین مرکز کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر ممتا بنرجی ہوئیں خفا، دیا یہ سخت جواب

    بی جے پی نے کل کے مکمل لاک ڈاٶن پر سوال اٹھاتے ہوٸے وزیر اعلی ممتا بنرجی پر ایک خاص طبقےکو خوش کرنے کا الزام لگایا۔

    بی جے پی نے کل کے مکمل لاک ڈاٶن پر سوال اٹھاتے ہوٸے وزیر اعلی ممتا بنرجی پر ایک خاص طبقےکو خوش کرنے کا الزام لگایا۔

    حالانکہ، پچھلے ہفتے ممتا بنرجی نے اس مسئلے سے متعلق کچھ معلومات شیئر کی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مرکز نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ مغربی بنگال سے 71 افراد دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لینے آئے تھے۔

    • Share this:
      کولکاتہ۔ مغربی بنگال (West bengal) کی وزیر اعلی ممتا بنرجی (Mamata Banerjee) نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں اپنی ریاست کے ان لوگوں کے بارے میں کوئی بھی اپ ڈیٹ کرنے سے انکار کردیا جنہوں نے گذشتہ ماہ دہلی میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی۔ جب پریس کانفرنس میں یہ پوچھا گیا کہ آپ کے یہاں کے کتنے افراد نے دہلی میں تبلیغی جماعت (Tablighi Jamaat) کے زیر اہتمام نظام الدین مرکز کے اجتماع میں شرکت کی تھی تو اس بات پر ممتا بنرجی نے غصے میں جواب دیا ، "اس طرح کے فرقہ وارانہ سوال نہ کریں۔" غور طلب ہے کہ دہلی کا نظام الدین مرکز کورونا وائرس کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے۔

      ریاستی حکومت نے شئیر کی تھیں کچھ معلومات

      حالانکہ، پچھلے ہفتے ممتا بنرجی نے اس مسئلے سے متعلق کچھ معلومات شیئر کی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مرکز نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ مغربی بنگال سے 71 افراد دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لینے آئے تھے۔ بنرجی نے کہا کہ ان کی اطلاع پر ہم نے اس میں سے 54 افراد کو تلاش کر لیا ہے ، ان میں سے 40 ملائیشیا ، انڈونیشیا اور میانمار سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ ان سبھی کو کولکتہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

      فائل فوٹو


      مغربی بنگال میں منگل کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی زد میں آئے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 75 ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے منگل کو بتایا کہ کووڈ۔ 19  سے ریاست میں اب تک 5 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ وہ غیر منظم شعبے میں مزدوروں کے لئے ورک فرنٹ پر "محدود چھوٹ" فراہم کرنے کے آپشن پر غور کررہی ہیں کیونکہ وہ لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں میں سے ہیں۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: