உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاست کے میدان میں بنگال کے فرفرہ شریف کی ہورہی ہے انٹری، اویسی کا بھی ملے گا ساتھ

    سیاست کے میدان میں بنگال کے فرفرہ شریف کی ہورہی ہے انٹری

    سیاست کے میدان میں بنگال کے فرفرہ شریف کی ہورہی ہے انٹری

    بنگال میں ہر طبقے کے لوگوں کا فرفرہ شریف سے خاص لگاؤ ہے۔ مذہبی، تعلیمی و سماجی ترقی کا نعرہ یہاں گونجتا ہے۔ لوگوں کو مذہب و زندگی کے اصول بتائے جاتے ہیں لیکن پہلا موقع ہے کہ فرفرہ شریف کے مذہبی لیڈران کی جانب سے سیاست کے میدان میں بھی فرفرہ کے نام سے انٹری مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    • Share this:
    بنگال کے فرفرہ شریف کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔ دنیا بھر سے عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔ بنگال میں ہر طبقے کے لوگوں کا فرفرہ شریف سے خاص لگاؤ ہے۔ مذہبی، تعلیمی و سماجی ترقی کا نعرہ یہاں گونجتا ہے۔ لوگوں کو مذہب و زندگی کے اصول بتائے جاتے ہیں لیکن پہلا موقع ہے کہ فرفرہ شریف کے مذہبی لیڈران کی جانب سے سیاست کے میدان میں بھی فرفرہ کے نام سے انٹری مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    حلانکہ فرفرہ شریف سے سیاسی لیڈران کا رشتہ کافی پرانا ہے۔ مختلف جماعتوں کے سیاسی لیڈران یہاں آتے ہیں اور پرزادوں سے دعا و آشیرواد لیتے ہیں لیکن اب پہلی بار فرفرہ کے پیر زادہ عباس صدیقی نے سیاسی جماعت بنانے اور امسال ہونے والے اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ پیرزادہ عباس صدیقی اور اے آئی ایم آئی ایم کے چیئرمین اسد الدین اویسی کی ملاقات کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ امسال فرفرہ شریف لیڈران کے لئے دعا کے ساتھ کچھ اہم کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ پیرزادہ عباس صدیقی نے سامنے آتے ہوئے سیاست میں ایک نئی سیاسی جماعت کے ساتھ انٹری لینے کا اعلان کیا ہے۔

    عباس صدیقی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کا غریب طبقہ بدحال ہے، پسماندہ ہے فرقہ پرست جماعتوں کا خوف دکھا کر ان کے ووٹ لئے جاتے ہیں لیکن ترقی نہیں ہوتی۔ عباس صدیقی نے کہا کہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کی بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے۔ انہیں جھوٹے کیسوں میں جیلوں میں بند کر دیا گیا جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ نہ غریب طبقے کے پاس نوکری ہے، نہ تعلیم نہ روزگار کے وسائل ایسے میں انکے مدعوں کو سامنے لانے، انہیں انکے حقوق دینے کے لئے ضروری ہے کہ فرفرہ شریف سیاسی سمت بھی بتائے۔ کل عباس صدیقی نئی جماعت کا اعلان کریں گے جو ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گی۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: