ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کورونا بحران کے دوران مسیحا بن کر سامنے آئے کولکاتا کے ڈاکٹر فواد حلیم، 50 روپئے میں کر رہے ہیں ڈائلیسس 

ڈاکٹر فواد حلیم نے کہا کہ ہماری تنظیم کا بنیادی مقصد مالی اعتبار سے کمزور افراد کو زیادہ سے زیادہ خدمات فراہم کرنا ہے۔

  • Share this:
کورونا بحران کے دوران مسیحا بن کر سامنے آئے کولکاتا کے ڈاکٹر فواد حلیم، 50 روپئے میں کر رہے ہیں ڈائلیسس 
کورونا بحران کے دوران مسیحا بن کر سامنے آئے کولکاتا کے ڈاکٹر فواد حلیم،

کولکاتہ۔ کورونا وائرس کے بحران کے دور میں جہاں ملک میں علاج کافی مہنگا ہو گیا ہے، کورونا کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے، پرائیویٹ نرسنگ ہوم نے اپنی خدمات معطل کر رکھی ہیں، لوگوں کے لٸے علاج کرانا مشکل ہو رہا ہے، وہیں ایسے دور میں کئی ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جو انسانی خدمت میں مصروف ہیں۔ کورونا بحران میں سب سے زیادہ  تھیلسیمیا اور ڈائیلیسس کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کولکاتا کے بیشتر اسپتالوں میں کورونا کے بڑھتے مریضوں کے باعث دیگر بیماریوں سے جوجھ رہے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں ’کولکاتا سواتھ سنکلپ“ نامی غیر سرکاری این جی او نے گردے کے مریضوں کی محض 50روپے کی علامتی فیس میں ڈائیلیسس کرکے لوگوں کو راحت پہنچانے کا کام کیا ہے جبکہ  کم سے کم 1500روپے میں ڈائیلیسس ہوتا ہے۔


کولکاتا سواتھ سنکلپ“ کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فواد حلیم نے کہا کہ ہزاروں  افراد کا ڈائیلیسس محض 50روپے کی علامتی فیس میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے خرچ کم کرکے مریضوں کے مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ لاک ڈاٶن کے باعث لوگ مالی اعتبار سے بدحال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہم اس پر منافع نہیں کماتے تھے اور پہلے بھی  کولکاتا میں سب سے کم 350 روپئے میں ڈائیلسس کرتے تھے۔ اب لاک ڈاؤن میں 300روپے کم کرکے محض 50روپے بطور فیس لی جا رہی ہے۔


ڈاکٹر فواد حلیم نے کہا کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد جب ہم نے ڈائیلیسس کی فیس کم کرنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوجائے گا۔ کیوں کہ آس پاس کے نرسنگ ہوم بند ہیں، حفاظتی سامان نہیں ہونے کی وجہ سے مریضوں کا علاج کرنے سے ڈاکٹرس کترا رہے ہیں۔انفیکشن بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے کیوں کہ جو مریض آرہا ہے اس سے متعلق کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کورونا سے متاثر ہے یا نہیں یا پھر اس مریض کا کورونا سے متاثر کسی مریض سے رابطہ رہا ہے یا نہیں۔ اسی خوف و اندیشے کی وجہ سے کئی نرسنگ ہوم نے اپنی خدمات ابتدائی مہینے میں ہی بند کر دی تھیں۔ اس لئے ہم لوگوں نے فوری طور پر ایک اور مشین خریدنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے ہمارے پاس ڈائیلیسس کی 8مشین تھی جو اب بڑھ کر انیس ہو گئی ہے۔مشین کی قیمت سے متعلق ڈاکٹر فواد حلیم نے بتایا کہ مشین کی قیمت مارکیٹ میں 12لاکھ روپے کے قریب ہے۔ مگر ہمیں نصف قیمت پر مشین مل گئی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم کا بنیادی مقصد مالی اعتبار سے کمزور افراد کو زیادہ سے زیادہ خدمات فراہم کرنا ہے۔ ڈائیلیسس کے مریض عام طور پر مالی مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے اخراجات کم کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ڈائیلسیس یونٹ میں ائیر کنڈیشن نہیں ہے، مریضوں کے ساتھ آنے والوں کیلئے ایئرکنڈیشن ویٹنگ روم نہیں ہے۔ مریض کو خود اپنے گھر سے چادر اور کمبل لے کر آنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر فواد حلیم کے اس اقدام کی سراہنا تمام سماجی و سیاسی جماعتوں کے لیڈران بھی کررہے ہیں اور کورونا بحران میں ڈاکٹر فواد حلیم ایک مسیحا کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

۔۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 08, 2020 11:09 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading