ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں این آئی اے نے مرشد آباد سے مدرسہ ٹیچر کو کیا گرفتار

بنگال میں القاعدہ کے نیٹ ورک کا اس وقت پردہ فاش ہوا تھا جب این آئی اے نے گزشتہ ماہ ستمبر میں کیرالا اور بنگال کے مرشد آباد میں ایک ساتھ چھاپہ مارتے ہوئے کیرالا سے تین اور مرشدآباد سے چھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور اِس گرفتاری کے ساتھ ہی این آئی اے نے پہلی بار بنگال میں القاعدہ نیٹ ورک کے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے گرفتار نوجوانوں پر القاعدہ سے تعلق رکھنے اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

  • Share this:
القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں این آئی اے نے مرشد آباد سے مدرسہ ٹیچر کو کیا گرفتار
القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں این آئی اے نے مرشد آباد سے مدرسہ ٹیچر کو کیا گرفتار

بنگال میں جہاں این آئی اے کی سرگرمیوں کو لے کر سوال اٹھ رہے ہیں، ریاستی وزراء سے لے کر حقوق انسانی کمیشن جیسی تنظیمیں ریاست میں این آئی اے کی سرگرمیوں کو مشکوک بتا رہی ہیں تو وہیں دوسری جانب این آئی اے اپنے دعوے پر قائم ہے۔ این آئی اے کے مطابق بنگال میں القاعدہ کا ایک مضبوط نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ ستمبر سے لیکر رواں ماہ تک این آئی اے نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں بنگال کے مرشد آباد سے 8 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گذشتہ کل بھی این آئی اے نے مرشد آباد سے عبدالمومن نامی ایک مدرسہ ٹیچر کو گرفتار کیا ہے۔ 32 سالہ عبدالمومن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ القاعدہ میں نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے کام پر مامور تھا۔ این آئی اے عبدالمومن کو بھی دہلی لے جا کر پوچھ گچھ کرے گی۔


بنگال میں القاعدہ کے نیٹ ورک کا اس وقت پردہ فاش ہوا تھا جب این آئی اے نے گزشتہ ماہ ستمبر میں کیرالا اور بنگال کے مرشد آباد میں ایک ساتھ چھاپہ مارتے ہوئے کیرالا سے تین اور مرشدآباد سے چھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور اِس گرفتاری کے ساتھ ہی این آئی اے نے پہلی بار بنگال میں القاعدہ نیٹ ورک کے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے گرفتار نوجوانوں پر القاعدہ سے تعلق رکھنے اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔


بعد میں ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری جو جمعیت علماء ہند کے بھی ریاستی چیئرمین ہیں انہوں نے اس معاملے میں آگے آتے ہوئے مرشد آباد جا کر اس پورے معاملے کی تحقیقات کی اور کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس میں صاف طور پر کہا کہ وہ گرفتار نوجوانوں کو قانونی مدد فراہم کریں گے۔ جماعت اسلامی نے بھی اس معاملے میں آگے آکر نوجوان کو قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے میئر اور ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے بھی بنگال میں این آئی اے کی بڑھتی سرگرمیوں پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے مرشد آباد سے ہوئی گرفتاری پر کوئی جواب نہیں دیا تاہم صاف طور پر کہا کہ این آئی اے کا استعمال سیاسی مقصد کے لئے کیا جا رہا ہے۔


تاہم این آئی اے اپنے دعوے پر قائم ہے۔ افسران کے مطابق گرفتار نوجوانوں کے پاس سے کئی اہم سراغ ملے ہیں۔ یہ لوگ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اور القاعدہ کے نیٹ ورک کو مضبوط بنا رہے تھے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ریاست کا مرشد آباد ضلع جو معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے کیا یہ ضلع دہشت گردانہ سرگرمیوں کا بھی اڈہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر اس کا جواب ہاں ہے جیسا کہ این آئی اے بار بار کہہ رہی ہے تو سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اتنے دنوں سے ریاست کی پولیس و جانچ ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں۔ این آئی اے نے بنگال میں القاعدہ کے بڑھتے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ اب لوگوں کی نگاہیں آگے کی کارروائیوں پر ٹکی ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 03, 2020 03:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading