உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتا بنرجی نے لاکھوں بنگالیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے: دلیپ گھوش

    بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش کی فائل فوٹو

    بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش کی فائل فوٹو

    ریاستی بی جے پی صدر نے مغربی بنگال میں مختلف ریاستوں اور بیرون ملک سے مختلف شخصیات کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’برلا ، گوینکا ، جندال ، متل نے یہاں فیکٹریاں لگائیں اور لوگوں کو آج نوکریاں مل گئیں۔" آج وہ بیرونی بن گئے ہیں؟

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کلکتہ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے آج ہوڑہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس نے باہری کا نعرہ لگاکر لاکھوں بنگالی جو دوسری ریاستوں میں کام کرتے ہیں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی امت شاہ، وزیر اعظم مودی اور بی جےپی کے لیڈران کو باہری قرار دے رہی ہیں جب کہ پورے ہندوستان نے بنگال کی عظیم شخصیات کو اپنا لیڈر مانا ہے۔ رابند ناتھ ٹیگور کی لکھی ہوئی نظم ملک کا قومی ترانہ ہے ۔بنکم چٹرجی کی لکھی ہوئی نظم وندے ماترم ملک کا قومی گیت ہے ۔رام کرشن اور سوامی ویویکانند کا تعلق بنگال سے ہے مگر آج پورا ملک ان کی تعظیم کرتا ہے۔ آج تک کسی نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ بنگالی غیر ملکی ہیں۔ وہ کارکن جو بہار اور اتر پردیش سے آئے انہیں باہری کیسے کہا جاسکتا ہے۔

      ریاستی بی جے پی صدر نے مغربی بنگال میں مختلف ریاستوں اور بیرون ملک سے مختلف شخصیات کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’برلا ، گوینکا ، جندال ، متل نے یہاں فیکٹریاں لگائیں اور لوگوں کو آج نوکریاں مل گئیں۔" آج وہ بیرونی بن گئے ہیں؟ حیرت انگیز نظریہ ، ہم نے یہاں پورے ہندوستان کے لوگوں کو قبول کیا ہے۔ میں باہر سے ہندوستان لایا ہوں۔ ہم نویدیتا کو بہن کو کہتے ہیں ، ہم مدر ٹریسا کو ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ ہم بیرون ملک سے آنے والے لوگوں کو مدر سسٹرز کہتے ہیں اور دیدی ہندوستان کے لوگوں کو بیرونی کہتی ہیں۔

      گھوش نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے لاکھوں بنگالیوں کی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے۔ اگر دوسری ریاستوں میں کام کر رہے بنگالی کو باہری کہا جائے گا تو 4لاکھ بنگالی کو ریاست میں آنا پڑے گا۔ کیا دیدی انہیں روزگار دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی تعمیر و ترقی میں ہر ایک کا حصہ ہے۔ بنگالی، راج بنشی، متوا ،پہاڑی سب نے ملک کر بنگال کو بنگال بنایا ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: