ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتہ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے سی اے اے کو لے کر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال دورے کے آخری دن شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ کردیا جائے گا ۔

  • Share this:
کولکاتہ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے سی اے اے کو لے کر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات
کولکاتہ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے سی اے اے کو لے کر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات

وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال کے اپنے دو روزہ دورے میں جہاں بنگال کی سیاست میں بی جے پی کو مضبوط بنانے کا اشارہ دیا وہیں ریاست میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے بی جے پی کی ایک مضبوط دعویداری پیش کی ۔ انہوں نے اس دورے میں سی اے اے کے تعلق سے بھی حکومت کا موقف صاف کیا ۔  وزیر داخلہ نے صاف کہا کہ سی اے اے کو جلد نافذ کیا جائے گا ۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا امت شاہ کے بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر ملک میں سی اے اے کے خلاف تحریک زور پکڑے گی ، کیونکہ بنگال دورے کے دوران امت شاہ کو سی اے اے مخالف تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ سی اے اے و این آر سی کے خلاف تحریک چلا رہی تنظیموں نے" امت شاہ واپس جاؤ "کے نعرے لگائے تھے ۔


مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال دورے کے آخری دن شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ کردیا جائے گا ۔ امت شاہ مغربی بنگال کے دو روزہ دورے پر کولکاتہ میں تھے ۔ بنگال میں آئندہ سال اپریل یا مئی میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے مودی کی قیادت میں بنگال اسمبلی انتخابات جیتنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں ممتا بنرجی کا دور اقتدار ختم ہونے والا ہے ، بنگال کے لوگ بی جے پی کو موقع دیں گے ، کیونکہ ممتا سرکار ریاست کی ترقی میں ناکام رہی ہے ۔


انہوں نے اس دورے میں رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا ارادہ جتاتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی بس کورونا وبا کے کنٹرول ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ یعنی سی اے اے اس قانون کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو ، سکھ ، جین ، بدھشٹ اور عیسائی رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی ۔ جب کہ اس قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور آئین کے سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ جبکہ امت شاہ اور بی جے پی یہ کہتی رہی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔


امت شاہ نے گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمنٹ سے اس قانون کو پاس کرایا تھا ۔ قانون کے پاس ہونے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے اور کورونا وائرس و لاک ڈاؤن کے بعد احتجاج کا سلسلہ رک گیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 07, 2020 12:03 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading