ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مجرم کوئی بھی ہوں، بخشے نہیں جائیں گے: نتیش کمار کا انتباہ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پٹنہ میں انڈیگو ایئر لائنس کے اسٹیشن مینیجر روپیش کمار سنگھ کے قتل کے معاملے میں پولیس تمام نکات پر جانچ کر رہی ہے اور بدمعاش جلد ہی پکڑ لئے جائیں گے۔ اس قتل معاملہ میں ملوث ملزم کا اسپیڈی ٹرائل کرا کر اسے سزا دلائی جائے گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 15, 2021 06:00 PM IST
  • Share this:
مجرم کوئی بھی ہوں، بخشے نہیں جائیں گے: نتیش کمار کا انتباہ
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی فائل فوٹو

پٹنہ۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کہا کہ حکومت جرائم پر کنٹرول کیلئے پوری طرح سے مستعد ہے اور مجرم کوئی بھی ہوں بخشے نہیں جائیںگے۔ نتیش کمار نے جمعہ کو پٹنہ کے آر ، بلاک سے دیگھا کے مابین 379.57 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار 6.7 کلومیٹر طویل سڑک جس کا نام سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے نام پر ” اٹل پتھ “ رکھا گیا ہے کا افتتاح کرنے کے بعد ریاست میں بڑھتے مجرمانہ واقعات سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جرائم پر کنٹرول کیلئے پوری طرح سے مستعد ہے۔ جرائم میں ملوث چاہے جو بھی ہوں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی۔


وزیراعلیٰ نے کہا کہ پٹنہ میں انڈیگو ایئر لائنس کے اسٹیشن مینیجر روپیش کمار سنگھ کے قتل کے معاملے میں پولیس تمام نکات پر جانچ کر رہی ہے اور بدمعاش جلد ہی پکڑ لئے جائیں گے۔ اس قتل معاملہ میں ملوث ملزم کا اسپیڈی ٹرائل کرا کر اسے سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے خود اس معاملے میں پولیس ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی پی ) سے بات کی ہے اور بدمعاشوں کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔


نتیش کمار نے کہا کہ جرائم پیشہ کسی سے اجازت لیکر جرم نہیں کرتا ہے۔ قتل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ پولیس ان وجوہات کو تلاش کر رہی ہے اور اس میں جو بھی جرائم پیشہ ملوث ہوگا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے جو بھی واقعات ہوئے ہیں وہ افسوسناک ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا جرائم پر کنٹرول نہیں ہے۔ پولیس کی مستعدی کا ہی نتیجہ ہے کہ بہار جرائم کے معاملے میں ملک میں 23 ویں نمبر پر ہے۔


نامہ نگاروں نے جب جرائم کے معاملے پر حکومت سے سوالات پوچھنے شروع کئے تو وزیراعلیٰ کی آواز تھوڑی بلند ہو گئی اور انہوں نے سوال کرنے والے صحافی سے کہا کہ ” ہم جانتے ہیں کہ آپ کس کے حامی ہیں۔ آپ کا سوال غلط ہے اس طرح سے پولیس کو ڈیمو ریلائز نہیں کرسکتے ہیں۔ پولیس کام کر رہی ہے اور اگر وہ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتی ہے تو اس پر کاروائی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ” میاں ۔ بیوی“ ( لالو ۔ رابڑی ) کے پندرہ سال کی مدت کار میں جرائم کی کیا صورتحال تھی اس کو بھی مد نظر رکھ کر بات کی جائے۔ سال 2005 کے پہلے جو ریاست کی صورتحال تھی وہ آج نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ سے جب صحافیوں نے کہا کہ ڈی جی پی کسی کا فون نہیں اٹھاتے ہیں، آخر جانکاری کس سے لی جائے اور کسے دی جائے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے وہیں سے ڈی جی پی کو فون کر کے کہا کہ میڈیا سے منسلک افراد کا فون اٹھائیں اور ان کا جواب ضرور دیں۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 15, 2021 06:00 PM IST