உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار انتخابات میں میڈیا کے کردار سے امت شاہ ہیں ناراض

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کے لئے پولنگ 5 نومبر کو ہونی ہے۔ 2015 بہار اسمبلی انتخابات اپنی سنجیدگی، سنگین مسائل، بامعنی بات چیت کی جگہ الزام تراشی، بے تکی بیان بازی کے لئے جانا جائے گا۔

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کے لئے پولنگ 5 نومبر کو ہونی ہے۔ 2015 بہار اسمبلی انتخابات اپنی سنجیدگی، سنگین مسائل، بامعنی بات چیت کی جگہ الزام تراشی، بے تکی بیان بازی کے لئے جانا جائے گا۔

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کے لئے پولنگ 5 نومبر کو ہونی ہے۔ 2015 بہار اسمبلی انتخابات اپنی سنجیدگی، سنگین مسائل، بامعنی بات چیت کی جگہ الزام تراشی، بے تکی بیان بازی کے لئے جانا جائے گا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے پانچویں اور آخری مرحلے کے لئے پولنگ 5 نومبر کو ہونی ہے۔ 2015 بہار اسمبلی انتخابات اپنی سنجیدگی، سنگین مسائل، بامعنی بات چیت کی جگہ الزام تراشی، بے تکی بیان بازی کے لئے جانا جائے گا۔


      این ڈی اے ہو یا مهاگٹھ بندھن سبھی کے لیڈروں نے اپنی بے تکی بیان بازی سے میڈیا میں خوب سرخیاں بٹوریں۔ پھر ان انتخابات میں ایسا کیا رہا کہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ اس انتخاب میں میڈیا کے کردار سے کافی ناراض ہیں۔


      ای ٹی وی کے نیشنل ایڈیٹر آشيت كنال سے خاص بات چیت میں امت شاہ میڈیا سے اپنی ناراضگی چھپا نہیں پائے۔ شاہ نے الزام لگایا کہ مهاگٹھ بندھن کے لیڈروں نے پورا الیکشن عوام کے درمیان لڑنے کی بجائے میڈیا میں لڑا۔


      اس سوال پر کی کیا بہار کا الیکشن مسائل سے بھٹک گیا ، شاہ نے میڈیا کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نظر سے اور عوام کی نظر سے تو نہیں مگر میڈیا کو ضرور کچھ غلط فہمی ہوگئی۔ اس سوال پر کہ کیا ترقی کے ایجنڈے کی جگہ بی جے پی کسی ٹریپ میں پھنس گئی؟ شاہ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہی اس الیکشن میں مهاگٹھ بندھن کے ٹریپ میں ہے۔


      دراصل بی جے پی کی میڈیا سے ناراضگی کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ موہن بھاگوت کے ناگپور کے ایک ثقافتی پروگرام میں ریزرویشن پر دیئے گئے بیان کا قومی مسئلہ بننا اور بہار اسمبلی انتخابات میں اس كا اثر پڑنا بی جے پی کو ناگوار گزرا۔ بی جے پی کو ایسا لگتا ہے کہ بھاگوت کے بیان کو نہ صرف غلط تناظر میں دکھایا گیا بلکہ اس کو ضرورت سے زیادہ طول بھی دیا گیا۔


      دوسری وجہ دادری میںگائے کے گوشت کی افواہ پر قتل ہے۔ بی جے پی میڈیا کو بتاتی رہی کہ یہ اتر پردیش حکومت کی لاپروائی اور قانون و انتظام کا معاملہ ہے، لیکن میڈیا نے اسے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت بتا کر مرکز کی مودی حکومت کو گھیرا۔ جب اس معاملہ پربہار انتخابات میں مهاگٹھ بندھن نے آڑے ہاتھوں لیا تو بی جے پی بیک فٹ پر آ گئی۔


      شاہ کا تیسرا درد یہ ہے کہ دوسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد دہلی کے کچھ میڈیا میں ایسی خبریں چلائی گئیں کہ مهاگٹھ بندھن نے بہار کے دو مراحل کی پولنگ میں برتری حاصل کرلی ہے، جس کے بعد شاہ اور ان کی پوری ٹیم کو راتوں رات نہ صرف حکمت عملی بدلنی پڑی ، بلکہ درگا پوجا اور دسہرہ کے آس پاس کا پورا موسم بی جے پی کو اس تاثر کو ختم کرنے میں لگانا پڑا کہ بی جے پی بہار کے دو مراحل کے انتخابات میں پچھڑ گئی ہے ۔

      First published: