உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پٹنہ کا زکوٰۃ بھون بنا غریبوں کا سہارا، شہر کے غریب اور دلت بستیوں میں پہنچا رہا ہے مدد

    پٹنہ کا زکوٰۃ بھون بنا غریبوں کا سہارا، شہر کے غریب اور دلت بستیوں میں پہنچا رہا ہے مدد

    پٹنہ کا زکوٰۃ بھون بنا غریبوں کا سہارا، شہر کے غریب اور دلت بستیوں میں پہنچا رہا ہے مدد

    زکوۃ بھون امیروں سے صدقات حاصل کرتا ہے اور اسے غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہیکہ زکوۃ بھون میں لوگ غلہ بھی چھوڑ جاتے ہیں اور استعمال کیا برتن اور کپڑا بھی۔

    • Share this:
    پٹنہ میں قائم زکوۃ بھون ایک ایسا ادارہ ہے جہاں سبھی سماج کے لوگ بغیر کسی مذہبی تفریق کے صدقہ، خیرات، دان یا مالی مدد کر زکوۃ بھون کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زکوۃ بھون امیروں سے صدقات حاصل کرتا ہے اور اسے غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہیکہ زکوۃ بھون میں لوگ غلہ بھی چھوڑ جاتے ہیں اور استعمال کیا برتن اور کپڑا بھی۔ زکوۃ بھون لوگوں کے استعمال کئے ہوئے سامانوں کو درست کر غریبوں کے محلہ میں اسے تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    زکوۃ بھون کے چیرمین اور شہر کے معروف سرجن ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا ہیکہ زکوۃ بھون نے ایک سسٹم بنایا ہے جس میں لوگوں کی دی ہوئی چیزیں غریبوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ فی الحال ملک میں لاک ڈاون ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور غریب بستیوں میں رہنے والے لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ غریب بستیوں میں رہنے والے لوگ دن رات کام کرتے ہیں تب ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ وہ یا تو رکشہ چلاتے ہیں یا مزدوری کرتے ہیں لیکن لاک ڈاون میں کام بلکل بند پڑا ہے ایسے میں اگر انکی مدد نہیں کی جائےگی تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔



    زکوۃ بھون نے کوشش کی ہے کہ جو لوگ زکوۃ بھون کے دفتر آتے ہیں انہیں یہاں سے مدد کی جائے اور جو نہیں آ پاتے ہیں ایسے لوگوں کو یا ایسی بستیوں میں زکوۃ بھون کی ٹیم ہفتہ میں ایک دن جاکر راشن اور کپڑے تقسیم کرتی ہے۔ زکوۃ بھون کا کہنا ہیکہ اس طرح سے غریبوں کے کھانے کا اتنظام بھی ہورہا ہے اور انہیں لاک ڈاون کو سختی سے فالو کرنے کی ہدایت بھی دی جاتی ہے۔ زکوۃ بھون نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جو لوگ غریبوں کی مدد کر سکتے ہیں وہ ضرور ان کی مدد کریں۔ زکوۃ بھون کے مطابق جس طرح سے غریب اور دلت بستیوں میں لوگوں کی مدد ہونی چاہئے تھی اس طرح سے مدد نہیں کی جارہی ہے اور ظاہر ہے لوگوں کے سامنے بھوک کا ایک بڑا سوال لگاتار بنا ہوا ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: