سی پی ایم نے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا

کلکتہ ۔ فرقہ پرست قوتوں کے خلاف لڑائی کو تیز کرنے کا عزم کرتے ہوئے سی پی ایم نے 2016میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکان کو روشن کردیا ہے ۔

Dec 28, 2015 07:37 PM IST | Updated on: Dec 28, 2015 07:37 PM IST
سی پی ایم نے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا

کلکتہ ۔ فرقہ پرست قوتوں کے خلاف لڑائی کو تیز کرنے کا عزم کرتے ہوئے سی پی ایم نے 2016میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکان کو روشن کردیا ہے ۔ کلکتہ پیلنیم کے دو سرے دن نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ سی پی ایم فسطائیت اور سماجی و معاشی ناہمواریوں و نا انصافیوں کے خلاف جد و جہد کرنے کیلئے ہر ممکن قربانی پیش کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے عدم رواداری اور فسطائی نظریات کے خلاف متحدہ جد و جہد کی سخت ضرورت ہے ۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے سیتا رام یچوری نے کہا کہ سی پی ایم بنگال سے ممتا بنرجی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔بنگال کو بچانے کیلئے ممتا بنرجی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری ہے اور یہی ہمارا سب سے بڑا ایجنڈا ہے ۔اسی طرح ملک کی سالمیت کیلئے نریندر مودی کی حکومت کا خاتمہ بھی ضروری ہے ۔اس کیلئے کیا کیا جانا چاہیے ہم اس پر غور کررہے ہیں ۔

کلکتہ پلینیم کے بنیادی ایجنڈے سے متعلق بات کرتے ہوئے سیتارام یچوری نے کہا کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط کرنا ، نوجوا نوں کو پارٹی سے جوڑنا اور اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے حکمت عملی طے کرنا بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ مغربی بنگال کے کچھ لیڈروں کے بنگال میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کے حق میں ہونے سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے یچوری نے کہا کہ ریاستی کمیٹی اتحاد سے متعلق فیصلہ کرنے میں آزاد نہیں ہے جب تک پولٹ بیورو اس پر مہر نہیں لگادیتی ہے ۔

اس درمیان کیرالہ کانگریس کے صدر وی ایم سودھیرن نے کمیونسٹوں سے کہا کہ وہ کانگریس کی اندھا دھند مخالفت کرنے کے بجائے بی جے پی کے ہندو تو ایجنڈے کو روکنے کیلئے کوشش کریں ۔سودھیرن نے کلکتہ میں جاری پانچ روزہ پلینیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا جب تک کانگریس کی آنکھ  بند کرکے مخالفت کرنے کی روش کو ترک نہیں کردیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بغیر بی جے پی کے ہندو تووادی ایجنڈے کے خلاف لڑائی نہیں ہوسکتی ہے ۔

Loading...

Loading...