گائے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنا ریاست کی ذمہ داری: سادھوی نرنجن جیوتی

کولکاتہ۔ مرکزی وزیر مملکت سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا ہے کہ گائے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے اوراس ملک میں گائے کے علاوہ کھانے کیلئے بہت سی چیزیں موجود ہیں ۔

Nov 23, 2015 07:04 PM IST | Updated on: Nov 23, 2015 07:04 PM IST
گائے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنا ریاست کی ذمہ داری: سادھوی نرنجن جیوتی

کولکاتہ۔ مرکزی وزیر مملکت سادھوی نرنجن جیوتی نے کہا ہے کہ گائے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے اوراس ملک میں گائے کے علاوہ کھانے کیلئے بہت سی چیزیں موجود ہیں ۔

اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور سادھوی نے گائے ذبیحہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ  گائے ذبیحہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ ہم سے احترام و عزت کی امید کرتے ہیں تو آپ کو بھی ہمارے جذبات کا احترام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں گائے ذبیحہ پر پابندی عاید کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کیوں کہ اس ملک میں گائے کے علاوہ کھانے کیلئے بہت سی چیزیں موجود ہیں ۔مغربی بنگا ل ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گائے ذبیحہ پر پابندی عاید نہیں ہے ۔

سادھوی نے الزام عاید کیا کہ عدم رواداری کا معاملہ بہار انتخابات کے پیش نظر ایک منصوبے کے تحت اٹھایا گیا تھا ۔اس ایشو کے ذریعہ بہار انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہار انتخابات کے نتائج کے بعد کسی نے بھی ایوارڈ نہیں لوٹا یا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔  فوڈپروسننگ انڈسٹریز کی وزیر مملکت جیوتی نے کہا کہ بہار انتخابات میں الگ ماحول ہے اس لیے اس کے نتائج کا اثر کسی دوسری ریاستوں میں نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد بی جے پی نے کئی ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ہم نتیش کمار کو مبارک باد دیتے ہیں۔

Loading...

مصنفین کے ذریعہ ایوارڈ واپس کیے جانے پر سادھوی نے کہا کہ ہم  مصنفین ، ادباء و شعراء کا احترام کرتے ہیں مگر ایوارڈ واپس نہیں کیا جا نا چاہیے۔ایوارڈ کوئی ٹوکن نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ پورے ملک کی عزت کا معاملہ ہے۔ اس لیے کوئی ایوارڈ واپس کرتا ہے تو وہ ملک کی توہین کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دادری سانحہ اترپردیش کی سماجوادی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہونے چاہئیں ۔یہ امن و قانون کا معاملہ ہے ۔یہ ریاست کا معاملہ ہے اس لیے اس طرح کے واقعات کیلئے مرکزی حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔  مرکزی وزیر مملکت نے پیرس حملے پر اعظم خان کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مشرق وسطی ٰ میں مداخلت کا رد عمل ہے ،مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرمناک بیان ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنا بیان دینے کا حق ہے مگر ایسا بیان نہیں دینا چاہیے جس سے دنیا بھر میں ہندوستان کی توہین ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایس آئی ایس کے حق میں بیان بازی کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی اقلیتوں میں بیشتر اچھے افراد ہیں جوملک کی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں اور جولوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہے ۔

Loading...