بہار میں جنگل راج اور وکاس راج کے درمیان لڑائی: نریندر مودی

مونگیر۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بہار اسمبلی انتخابات کو جنگل راج اور ترقی کے درمیان لڑائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ریاست کے عوام وکاس راج کے حق میں ووٹ کریں گے نہ کہ جنگل راج کے حق میں۔

Oct 08, 2015 01:26 PM IST | Updated on: Oct 08, 2015 03:43 PM IST
بہار میں جنگل راج اور وکاس راج کے درمیان لڑائی: نریندر مودی

مونگیر۔  وزیراعظم نریندر مودی نے بہار اسمبلی انتخابات کو جنگل راج اور ترقی کے درمیان لڑائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ریاست کے عوام وکاس راج کے حق میں ووٹ کریں گے نہ کہ جنگل راج کے حق میں۔

مسٹر مودی نے یہاں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدواروں کے حق میں انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اسمبلی انتخابات میں ایک طرف جنگل راج اور دوسری طرف وکاس راج ہے۔ یہ لڑائی ان دونوں کے درمیان ہے اور اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے جنگل راج چاہئے یا وکاس راج چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جنگل راج کی سب سے بڑی صنعت اغوا کے واقعات تھے جب روزانہ ڈاکٹروں اور تاجروں کا اغوا ہوتا تھا۔ اب وہی یادیں پھر سے تازہ ہورہی ہیں۔ حکومت بہار کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال جنوری سے جولائی کے درمیان اغوا کے چار ہزار واقعات ہوئے ہیں۔ اب لوگوں کو یہ طے کرنا ہے کہ کیا بہار میں پھر سے اغوا کے دن آنے دینے ہیں۔

وزیر اعظم نے راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو اور ان کی بیوی رابڑی دیوی کے دور اقتدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگل راج کے وقت ریاست میں جب لوگ کوئی نئی موٹر گاڑی خریدتے تھے تو انہیں یہ فکر ہوتی تھی کہ کوئی لیڈر موٹر سائیکل اٹھاکر لیجائے گا۔جان کا بھی خطرہ لگا رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مائیں ڈر کی وجہ سے شام کے بعد اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتی تھیں ۔ بہار کے لوگوں نے یہ دن دیکھے ہیں اور اسے ابھی بھولے نہیں ہیں اس لئے انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ریاست کے عوام ترقی کی راج کے لئے ووٹنگ کریں گے نہ کہ جنگل راج کے لئے کریں گے۔

Loading...

مسٹر مودی نے ہندووں کے گائے کا گوشت کھانے سے متعلق مسٹر لالو پرساد یادو کے بیان پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہیں یادو لوگوں نے  اقتدار تک پہنچایا تھا۔ آج وہ انہی کو ذلیل کررہے ہیں ۔ وہ (لالو) یادو لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ کیا کیا کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیان سے یادو اور بہار کی توہین ہوتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ جب یادووں کو غصہ آیا تو وہ کہنے لگے کہ ان کے اندر شیطان داخل ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں شیطان کو کوئی اور ٹھکانہ نہیں ملا یہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس پتے کو شیطان نے تلاش کرلیا ہو اور جہاں شیطان رہنے کی ہمت کرتا ہو اس پتے پر ہم کبھی جائیں گے بھی نہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد 35 برس تک کانگریس اور 25 سال تک بڑے اور چھوٹے بھائی (لالو ۔نتیش) نے حکومت کی۔ جس نے 60 برس تک بہار کو لوٹا ہے ، وہ پھر سے اقتدار میں آکر بہار کو اور بھی برباد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بہار کے مستقبل کو 60 برس تک روندا ہے ان سے اب نجات ملنی چاہئے۔

وزیر اعٖظم نے کہا کہ جب کانگریس میں سامنے سے اقتدار میں آنے کی طاقت ختم ہوگئی تو وہ پچھلے دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن آج کانگریس کی ایسی حالت ہوگئی ہے کہ اس کے لیڈر اپنے کسی بڑے لیڈر کی تعریف کرنے کی بھی طاقت کھوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی میں غرور کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے اس بات کو کانگریس سمجھ چکی ہے۔

مسٹر مودی نے وزیر اعلی نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام ٖغرور کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ عوام خاموش رہتےہیں لیکن وقت آنے پر وہ چن چن کر انتقام لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بھی عوام ٖغرور کو مٹاکر اس کا جواب دیں گے۔ وزیر اعظم نےکہا کہ بہار کے کچھ علاقوں میں اتنا پانی ہے کہ اس کے لئے ہندوستان کے کئی علاقے ترستے ہیں۔ اسی طرح یہاں نوجوانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور جوانی پر اگر توجہ دی جائے تو نہ صرف بہار بلکہ پورے ہندوستان کی تصویر بھی بدل جائے گی۔ ان کی حکومت ترقی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔

Loading...