داعش کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ و بدنام کرنے کی سازش: وصی اللہ عبّاس

کولکاتہ : داعش ایک ایسا نام ہے جس کے خلاف دنیا بھر کے ممالک متحد ہورہے ہیں۔

Dec 07, 2015 03:00 PM IST | Updated on: Dec 07, 2015 03:02 PM IST
داعش کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ و بدنام کرنے کی سازش: وصی اللہ عبّاس

کولکاتہ : داعش ایک ایسی شدت پسند تنظیم کا نام ہے جس کے خلاف دنیا بھر کے ممالک متحد ہورہے ہیں۔ وہیں مسلمانوں پر اس سے ہمدردی رکھنے کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔  تاہم مفتی حرم ڈاکٹر وصی اللہ عباس  نے داعش کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ و بدنام کرنے کی سازشوں کا الزام لگایا ہے ۔

 یہاں منعقدہ پیغام رسالت کانفرنس میں شرکت  کی غرض سے  کولکاتا آئےمفتی حرم نے داعش کے نام پر دنیا بھر میں  پھیلی تباہی کو افسوسناک بتاتے ہوئے اس شدت پسند تنظیم سے مسلم نوجوانوں کے جڑنے کے الزامات کو یکسر غلط بتایا۔  انہوں نے کہا کہ داعش کے نام پر  اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ناپاک  سازش رچی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  عرب ممالک اس سے  سب سے زیادہ متاثر ہیں۔  ساتھ ہی انہوں نے ابو ظہبی میں عالمی قابل تجدید توانائی ایجنسی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی سطح کے مشن کے آغاز کو غلط بتاتے ہوئے اس طرح کے منصوبوں کو سعودی علماء کی جانب سے رد کئے جانے کی امید جتاتے ہوئے اسے ناقابل قبول بتایا ۔

اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے تعلق رکھنے والے وصی اللہ عبّاس سترہ  سال کی عمر میں حصول  تعلیم کے  سلسلے میں سعودی عرب گئےاور انہوں نے وہیں سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ ان دنوں  وہ مفتی حرم کے فرائض کے ساتھ مکہ میں واقع ام القریٰ یونیورسٹی میں مدرس کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 پیغام رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی حرم نے ملک میں مذہب کے نام پر جاری انتشار کو افسوسناک بتایا ۔ وہیں  ملک میں تمام طبقے کے لوگوں کے ساتھ  یکساں سلوک کرنے اور انہیں برابر کے مواقع دیئے جانے کا مطالبہ  بھی کیا۔ انہوں نے  ہندوستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو دنیا کے لئے مثالی بتاتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنانے کے لئے ہر طبقے کو آگے آنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے علمائے دین سےبھی سیاست سے زیادہ  ملک وملت  کی ترقی کے لئے کام کرنے کی اپیل  کی ۔

Loading...

مفتی حرم نے ان خبروں کو بھی غلط بتایا کہ سعودی عرب میں یہودی سفارت خانہ کھولنے کی کوئی اجازت  ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو علما اس پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس کے خلاف وہ احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر حساس معاملہ پراپنے ائمہ سے صلاح ومشورے کرتا ہے اور اس کی  مسلسل یہی کوشش رہتی ہے کہ  مذہبی عقائد کو  ٹھیس نہ پہنچے۔

Loading...