وزیر اعظم نے بہار کو 50 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا خصوصی پیکج دینے کا اعلان کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج بہار کو 50 ہزار کروڑ روپے سےزیادہ کا خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کیا۔

Jul 25, 2015 12:50 PM IST | Updated on: Jul 25, 2015 07:51 PM IST
وزیر اعظم نے بہار کو 50 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا خصوصی پیکج دینے کا اعلان کیا

پٹنہ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج بہار کو 50 ہزار کروڑ روپے سےزیادہ کا خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار بہار آئے مسٹر مودی نے یہاں ویٹنري کالج میدان میں کئی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے جب وہ گاندھی میدان میں بم دھماکوں کے درمیان تقریرکر رہے تھے تب انہوں نے مرکز میں حکومت بننے پر بہار کو خصوصی پیکج دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی قیادت میں مرکز میں حکومت بنی تو انہوں نے بہار کو 50 ہزارکروڑ روپے کا خصوصی پیکج دینے کے بارے میں سوچا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ بہار کے سلسلے میں ان کے جو منصوبے ہیں، اسے وہ جس بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں، اس کے پیش نظر انہوں نے اپنی کابینہ کے ساتھیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تب انہیں لگا کہ 50 ہزار کروڑ روپیہ سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بہار کو 50 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا خصوصی پیکیج دیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صحیح وقت پر وہ اس کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کےلئے انہوں نے جو بھی وعدہ کیا تھا اس سے آگے بڑھ کروہ اسے پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ بہار کی ترقی کی رفتار تیز ہو۔

مسٹر مودی نے کہا کہ بہار کی ترقی ان کا اہم ایجنڈا ہے اور مشرقی ریاستوں کی ترقی کے لئے بھی وہ مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔اس کے لئے آئندہ چند دنوں میں کئی منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نےکہا کہ ان کا خیال ہے کہ ریاستوں کو اگر صحیح طریقے سے امداد کی جائے تو ملک بہت ترقی کرے گا۔ اسی مقصدکے تحت 14 ویں فائننس کمیشن نے سفارش کی ہے جس کا فائدہ تمام ریاستوں کو ملے گا۔وزیر اعظم نے 14 ویں فائننس کمیشن کی سفارش سے بہار کو نقصان کے خدشےسے دور کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہار کو 2015 سے 2020 کے دوران تقریبا تین کروڑ 75 لاکھ کروڑ روپیہ ملنے والا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں بہار کو محض ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپیہ ہی ملتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ جب تک بہار سمیت مشرقی ریاستوں میں ترقی نہیں ہوگی تب تک ملک خوشحال نہیں ہو سکتا ہے۔مسٹر مودی نے ترقی کو’ سب دکھوں کی ایک دوا ‘بتایا اور کہا کہ اب لوگ سمجھنے لگے ہے کہ ترقی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ غربت ،بےروزگاري، ناخواندگی اور صحت کی سہولیات کے لئے ترقی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان ترقی کے معاملے میں مسابقت و مقابلہ کا ماحول بننے لگا ہے جو اچھی بات ہے۔

وزیر اعظم نے دنياوا ں-بهارشریف ریل لائن کا کام مکمل ہونے میں تاخیر کے تعلق سے وزیر اعلی نتیش کمار کے بیان کو صحیح بتایا اور کہا کہ سیاست کتنا نقصان کرتی ہے یہ وزیر اعلی نے  تفصیل سے بتا دیا ہے۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے وقت اگر لوک سبھا کا انتخاب چھ ماہ قبل نہیں کرایا گیا ہوتا اور وقت مل جاتا تو بهارشریف۔ دنياواں ریل لائن کا کام مکمل ہو جاتا لیکن اس کام کو مکمل ہونے میں 10 سال کا عرصہ لگ گیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ واجپئی حکومت کے بعد بہار سے ہی وزیر ریل ہوئے جس نے اس کام کو روک دیا۔ سچ ہے کہ سیاست نے یہاں کافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار سے کافی ریلوے کے وزیر ہونے کے باوجود بہارکے دور دراز کے علاقے اب بھی ریل سے منسلک نہیں ہیں۔ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ بہار کے دوردراز کے علاقوں کو ریل سے جوڑا جائے۔ وزیر اعظم نے برونی کھاد فیکٹری کے سلسلے میں کہا کہ مسٹر نتیش کمار نے ٹھیک ہی کہا کہ بہار نے برونی کھاد فیکٹری کو چالو کرنے کے لئے بجلی کا 300 کروڑ روپے کا بقایا معاف کر دیا۔ اس وقت مسٹر سشیل کمار مودی ریاست کے وزیر خزانہ تھے اور وہ سمجھتے ہیں کہ بہار جیسی ریاست کے لئے یہ فیصلہ لینا کتنا مشکل رہا ہوگا۔

Loading...

مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے باوجود اس کام کو 10 سال روک دیا گیا۔ اس کام میں بہار حکومت کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب یقین ہے کہ برونی کھاد فیکٹری کو دوبارہ شروع کرنے کا کام جلد مکمل ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی میں ریل اور سڑک کی جیسی اہمیت ہے ویسا ہی اہمیت گیس گرڈ کی بھی ہے۔ بہار میں گنگا تو پہلے سے ہی تھی اب وہ توانائی گنگا لے کر آئیں ہے۔ جگديش پور هلديا قدرتی گیس پائپ لائن کےبچھنے سے لوگوں کے گھر میں گیس پہنچنے کے ساتھ ہی برونی کھاد فیکٹری کو پھر سے شروع کرنے سمیت دیگر کارخانوں وفیکٹریوں کواز سر نوتیز رفتار کے ساتھ شروع کرنے میں بھی مددملے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کےشعبے میں گیس کی دستیابی پورے اقتصادی نظام کو تبدیل کرکے رکھ دے گی۔

Loading...