ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

الیکشن کمشنر نے کہا- آئندہ سال تک جموں وکشمیر میں کراسکتے ہیں انتخابات، 5 مارچ تک ہوجائے گی حد بندی

چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے کہا کہ انتخابی حلقوں میں اضلاع کے ساتھ ساتھ تحصیلوں میں بھی ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ یہ سب اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • Share this:
الیکشن کمشنر نے کہا- آئندہ سال تک جموں وکشمیر میں کراسکتے ہیں انتخابات، 5 مارچ تک ہوجائے گی حد بندی
چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے کہا- آئندہ سال تک جموں وکشمیر میں انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔

نئی دہلی سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) میں حد بندی کمیشن (delimitation commission) کے چار روزہ دورے کے درمیان چیف الیکشن کمشنر سنیل چندرا (Sushil Chandra, Chief Election Commissioner of India) نے کہا ہے کہ ریاست میں آئندہ سال تک انتخابات کرائے جاسکیں گے۔ سشیل چندرا نے کہا کہ پی او کے کے حصے کی 24 سیٹیں خالی رہیں گی اور حد بندی 5 مارچ تک تک پوری ہوجائے گی۔ سشیل چندرا نے کہا کہ پہلا مکمل حد بندی کمیشن 1981 میں تشکیل دیا گیا تھا، جس نے 14 سال بعد 1995 میں اپنی سفارش کی تھی۔ یہ 1981 کی مردم شماری پر مبنی تھی۔ اس کے بعد کوئی حد بندی نہیں ہوئی۔


چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سال 1995 میں 12 اضلاع تھے۔ یہ تعداد اب 20 ہوگئی ہے۔ تحصیلوں کی تعداد 58 سے بڑھ کر 270 ہوگئی ہے۔ وہیں 12 اضلاع میں انتخابی حلقے کی سرحدوں کو اضلاع کی سرحد سے آگے بڑھایا گیا ہے۔


جموں وکشمیر کی ٹوپو گرافی الگ: الیکشن کمشنر


چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے کہا کہ انتخابی حلقوں میں اضلاع کے ساتھ ساتھ تحصیلوں میں بھی ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ یہ سب اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چندرا نے کہا کہ سبھی مطالبات اور سفارشات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک مسودہ تیار کرنے کے بعد اسے عوامی کیا جائے گا تاکہ لوگ اپنی رائے دے سکیں۔ اس کے بعد حد بندی کا فائنل ڈرافٹ تیار کیا جائے گا۔

سشیل چندرا نے کہا، ’جموں وکشمیر کی ٹوپو گرافی الگ ہے۔ بہت دور دراز کے علاقے بھی ہیں۔ مشکل راستے بھی ہیں۔ لوگ دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان کا دھیان پہلے حد بندی میں نہیں رکھا گیا تھا، لیکن اس بار ہم نے اپنا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے اور ہر طبقہ اور علاقے کے لوگوں کی آواز اس میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پوری طرح سے اس کو لوگوں کے درمیان لانا ہوگا۔ ہم نے چیف سکریٹری سے بات کی ہے کہ اس کے لئے نوڈل افسران تعینات کریں۔ تاکہ لوگوں کے سوال ہوں تو اس کا حل نکالا جاسکے‘۔

سشیل چندرا کے مطابق، حد بندی کمیشن نے کشمیر، پہلگام، کشتواڑ اور جموں میں لوگوں سے ملاقات کرکے ان کی رائے لی۔ تقریباً 290 وفود سے ملاقات کی گئی، جس میں سیاسی اور سماجی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 800 لوگ اس میں شامل تھے اور کئی لوگ بہت دور سے سفر طے کرکے ہمارے پاس اپنی رائے لے کر پہنچے تھے۔ لوگوں نے کمیشن کے کام کی تعریف کی ہے اور خوش ہیں کہ آخر اتنے لمبے وقت کے بعد حد بندی ہونے جارہی ہے۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 09, 2021 03:12 PM IST