ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

معاشی سروے پارلیمنٹ میں پیش، رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں 7.7 فیصد کی کمی کا اندازہ

پارلیمنٹ میں جمعہ کو پیش معاشی سروے میں کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 کے پیش نظر رواں مالی سال میں ملک کے مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں 7.7 فیصد کی کمی رہے گی جبکہ آئندہ سال اس میں 11 فیصد کاتیز رفتار اضافہ درج کیا جائے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 29, 2021 10:58 PM IST
  • Share this:
معاشی سروے پارلیمنٹ میں پیش، رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں 7.7 فیصد کی کمی کا اندازہ
معاشی سروے پارلیمنٹ میں پیش، رواں مالی سال میں جی ڈی پی میں 7.7 فیصد کی کمی کا اندازہ

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں جمعہ کو پیش معاشی سروے میں کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 کے پیش نظر رواں مالی سال میں ملک کے مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں 7.7 فیصد کی کمی رہے گی جبکہ آئندہ سال اس میں 11 فیصد کاتیز رفتار اضافہ درج کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں معاشی سروے پیش کئے جانے کے بعد حکومت کے چیف اقتصادی مشیر کے وی سبرامنیم نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ ہندوستانی معیشت میں انگریزی کے(وی) حرف کے شکل میں بہتری ہوگی یعنی جس تیزی سے رواں مالی سال میں کمی رہی اسی رفتار سے واپسی بھی ہوگی۔

اس سے قبل وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں معاشی سروے 2020-21 پیش کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال جی ڈی پی میں 7.7 فیصد کی کمی آئے گی اور آئندہ سال 11 فیصد کااضافہ دیکھاجائے گا۔ اس طرح دوسال میں جی ڈی پی میں تقریباً ڈھائی فیصد کامجموعی اضافہ ہوگا۔ پہلی ششماہی میں جی ڈی پی میں 15.7 فیصد کی تیز کمی رہی ہے اور دوسری ششماہی میں 0.1 فیصد کی کمی کا اندازہ ہے۔ کووڈ دور میں لوگوں کے باہمی رابطے والی خدمات، مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبے شدید متاثر ہوئے تھے جن میں بتدریج بہتری دیکھی جارہی ہے۔ سرکاری کھپت اور خالص برآمدات کی بنیاد پر ہی معاشی نمو میں اورزیادہ کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

حکومت کے چیف اقتصادی مشیر کے وی سبرامنیم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اگلے سال ہندوستان کی شرح نمو 11 فیصد رہنے کاامکان ظاہر کیا ہے اور اس کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 وبا کے دوران لوگوں کی جان بچانے پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ۔ہم نے اس سچائی کو قبول کیا کہ جی ڈی پی ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی ، لیکن ایک بار کھوئی ہوئی زندگی کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا ، "لوگوں کی جان بچانا اور بروقت اقدامات کرنے سے معیشت میں تیز اور اچھی بہتری یقینی ہوئی‘‘… جن ریاستوں میں لاک ڈاون جتنی اچھی طرح نافذ کیا گیا وہاں کووڈ 19 وبا کے معاملات اوراس سے ہوئی اموات کی تعداد میں اتنی کمی رہی۔‘‘

حکومتی اقدامات کو 'سمجھدار اور دور اندیشی پالیسی اقدامات' قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کووڈ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے تک مالیاتی پالیسیاں اس طرح ہونی چاہیے جو اس سمت میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مالیاتی نظم و ضبط سے زیادہ معاشی ترقی پر زیادہ توجہ دینا چاہئے کیونکہ ملک کی معاشی بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ سرکاری قرضوں میں اضافے سے بھی تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔


ایک سوال کے جواب میں مسٹر سبرامنیم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں یکم فروری کو پیش ہونے والے بجٹ میں‘پجارا کی چوکسی اور پنت کی جارحیت‘دونوں نظرآئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ اورفراہمی میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کو سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے جو حکومت کربھی رہی ہے۔ اس سے آنے والے وقت میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی بڑھے گی۔ پرنسپل اقتصادی مشیر سنجیو سانیال نے کہا کہ حکومت کی رقم کی سرمایہ کاری گزشتہ سال اکتوبر میں 129 فیصد اور نومبر میں 249 فیصد بڑھی۔ گزشتہ دسمبر میں اس میں 62 فیصد کا اضافہ ہوا۔
مسٹر سبرامنیم نے کہا کہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (آراینڈ ڈی)پر مجموعی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آر اینڈ ڈی پر مجموعی سرمایہ کاری 0.67 فیصد ہے۔ اس شعبے میں کل سرمایہ کاری میں نجی شعبے کا تعاون محض 37 فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں نجی شعبے کا تعاون 68 فیصد ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 29, 2021 10:58 PM IST