حافظ قرآن کو ڈاکٹر، انجینئر بنانے اورعصری تعلیم سے ہمکنار کرانے کا کامیاب تجربہ!۔

جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر بیدر کی مشہور تعلیمی انجمن ’شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس‘ نے دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا ایک انوکھا اور منفرد تجربہ کیا ہے۔

Sep 22, 2016 06:41 PM IST | Updated on: Sep 22, 2016 06:45 PM IST
حافظ قرآن کو ڈاکٹر، انجینئر بنانے اورعصری تعلیم سے ہمکنار کرانے کا کامیاب تجربہ!۔

نئی دہلی۔  جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر بیدر کی مشہور تعلیمی انجمن ’شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس‘ نے دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا ایک انوکھا اور منفرد تجربہ کیا ہے جس کے تحت حافظ قرآن کے منتخب طلباء کو محض تین سال کے عرصہ میں اس قابل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ میڈیکل ، انجنیئر نگ، مینجمنٹ جیسے دیگر پروفیشنل کورسوں میں داخلہ لے سکیں نیز ریاستی اور مرکزی سطح کے سول سروسز کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لے سکیں ۔ شاہین گروپ نے ’ حفظ القران پلس‘ کے نام سے یہ کورس پانچ سال پہلے شروع کیا تھا جس سے اب تک ملک کی 12ریاستوں کے 200 سے زائد حفاظ استفادہ کرچکے ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل متعدد حفاظ ، سرکاری میڈیکل کالجوں، انجنیئرنگ کالجوں اور دیگر پروفیشنل کورسوں کے سرکاری کالجوں میں بھی مسابقتی امتحان کے ذریعہ داخلہ لے چکے ہیں۔

شاہین گروپ کے سکریٹری ڈاکٹر عبدالقدیر نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں اپنے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ادارہ کا مقصد اچھے ا ور بہترین امام کے ساتھ ایک اچھا اور بااخلاق ڈاکٹر اور انجینئر بھی تیار کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے پر ایک اچھا اثر چھوڑ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظ غیر معمولی طور پر ذہین طلبا ہوتے ہیں جو جلد ہی عصری علوم میں دسترس حاصل کرلیتے ہیں ۔ انہیں محض چار سالہ کورس کے ذریعہ اس قابل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ مکمل اعتماد کے ساتھ کسی بھی پیشہ وارانہ اور عصری کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کورسز کی تٖفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قران حفظ کئے ہوئے 12تا 15 سال کے بچوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور پہلے چھ ماہ تک فاؤنڈیشن کورس پھر بریج کورس اور اس کے بعد دسویں اور بارہویں کے امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے ۔ اس کے حوصلہ افزاء اور مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ اس سے حوصلہ پاکر ہم نے اس کے دائرہ کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے تمام اداروں میں دینی تعلیم کا بھی پوری طرح سے نظم ہے اس طرح عصری تعلیم حاصل کرنے والے بچے دینی تعلیم محروم نہیں رہتے ہیں۔ اس کورس کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک حفاظ اپنی کفالت کے لئے چھوٹے موٹے پیشوں جیسے ٹیلرنگ، میکانک وغیرہ پر انحصار کرتے رہے ہیں مگر اس کورس کی بدولت ان کی امیج تبدیل ہوگی اور وہ معاشرے میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکیں گے اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہین گروپ  کورسز کے دوران منتخب طلبا کی پوری طرح سے کفالت کرتا ہے۔ انہوں نے رضاکار تنظیموں اور این جی اوز اور ا صحاب خیر افراد سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر اچھے حفاظ کی تلاش میں ان کے ادراہ کی اعانت کریں ۔

shaheen group of institutions

Loading...

خیال رہے کہ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس گزشتہ 28برسوں سے تعلیمی میدان میں گراں مایہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ اس کے تحت ملک بھر میں شاہین گروپ کی 27 شاخوں میں سر دست 12ہزار سے زائد طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ غیر مسلم طلبا کی ایک قابل ذکر تعداد بھی ان اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جو اس گروپ کی مقبولیت اور معیاری تعلیم کا واضح ثبوت ہیں ۔ یہاں بیرون ملک کے طلبا بھی زیر تعلیم ہیں ۔ ادارہ کے تحت انگریزی اور اردو میڈیم کے لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ ہائر سیکنڈری اسکول کے علاوہ لڑکیوں کا ڈگری کالج بھی قائم ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شاہین گروپ کے تعلیمی اداروں میں بلا تفریق مذہب و ملت طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جس سے ملک کی قومی یکجہتی میں ادارہ اہم رول ادا کر رہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کرناٹک کی حکومت نے شاہین گروپ کو سال 2013 میں ریاست کے سب سے بڑے سرکاری اعزاز ’’راج اتسو‘‘ سے نوازا۔انہوں نے بتایا کہ عام طلبا کے لئے سالانہ فیس کا خرچ تقریباً 80ہزار روپے لیا جاتا ہے جب کہ حافظ قرآن سے محض 36 ہزار روپے سالانہ لیے جاتے ہیں جس میں ان کی تعلیم اور طعام و قیام کا بھی انتظام ہوتا ہے۔

Loading...