ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں مساجد بورڈ بنانے کی تحریک تیز ، ائمہ و موذنین کو مل سکے گا انصاف

مساجد کمیٹی کے چیئرمین عبدالحفیظ خان کہتے ہیں کہ مساجد بورڈ کی تشکیل سے پورے صوبہ کے ائمہ و موذنین کے ساتھ انصاف ہو سکے گا اور اس میں ابتدائی طور پر ایم پی وقف بورڈ میں درج مساجد کے ائمہ وموذنین کو شامل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں مساجد بورڈ بنانے کی تحریک تیز ، ائمہ و موذنین کو مل سکے گا انصاف
مدھیہ پردیش میں مساجد بورڈ بنانے کی تحریک تیز ، ائمہ و موذنین کو مل سکے گا انصاف

مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کی تشکیل ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے معاہدے کی رو سے عمل میں آئی تھی ۔ مساجد کمیٹی کو حکومت مدھیہ پردیش سالانہ گرانٹ جاری کرتی ہے اور ریاست بھوپال کے ائمہ و موذنین کو مساجد کمیٹی کے ذریعہ ماہانہ تنخواہ پیش کی جاتی ہے۔ مساجد کمیٹی کا دائرہ موجودہ میں مدھیہ پردیش کے تین اضلاع بھوپال ، رائسین اور سیہور تک ہی محدود ہے ۔ کیونکہ ریاست بھوپال جغرافیائی طور پر انہیں تین اضلاع تک محدود تھی۔


مساجد کمیٹی کا قیام انڈین یونین اور ریاست بھوپال کے بیچ ہوئے معاہدے کی روسے عمل میں ضرورآیا تھا ، لیکن آزادی کے بعد مدھیہ پردیش میں جو بھی حکومت قائم ہوئی ، اس نے معاہدے پر عمل نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مساجد کمیٹی کے ائمہ و موذنین قلیل تنخواہ پر گزار بسر کرتے تھے۔ کمل ناتھ حکومت سے قبل مساجد کمیٹی کے ائمہ کو بائیس سو روپیہ اورموذنین کو اٹھارہ سو روپیہ ماہانہ ادا کیاجاتا تھا ، مگر جب مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر عارف عقیل اور عارف مسعود کی کوشش سے بجٹ میں اضافہ کیا گیا تو اب مساجد کمیٹی کے ائمہ کو پانچ ہزار اور موذنین کو ساڑھے چار ہزارروپے ماہانہ تنخواہ دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ مساجد کمیٹی نے اپنے دائرہ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے مساجد بورڈ میں تبدیل کرنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔


مساجد کمیٹی کے چیئرمین عبدالحفیظ خان کہتے ہیں کہ مساجد بورڈ کی تشکیل سے پورے صوبہ کے ائمہ و موذنین کے ساتھ انصاف ہو سکے گا اور اس میں ابتدائی طور پر ایم پی وقف بورڈ میں درج مساجد کے ائمہ وموذنین کو شامل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔وہیں دوسری جانب  مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ سبھی کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔


انہوں نے ایم پی کی تاریخ میں پہلی بار مساجد کمیٹی کے بجٹ میں بڑا اضافہ کیا ہے اور انہیں کی کوشش سے ہم مساجد کمیٹی کے امام اور موذن کو پانچ ہزارو ساڑھے چار ہزار ماہانہ ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوئے ہیں ۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ اس رقم میں اور اضافہ کیا جائے ۔ تاکہ ہم امام کو ماہانہ دس ہزار اور موذن کو ماہانہ ساڑھے نو ہزار روپے ادا کر سکیں ۔ مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر عارف عقیل کے مشورے پر اس سلسلہ میں حکومت کو ایک سو اکتالیس کروڑ روپے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ 16 مارچ سے شروع ہونے والے اسمبلی کے بجٹ سیشن میں ہماری تجویز منظور کر لی جائے گی ۔
First published: Mar 07, 2020 10:42 PM IST