உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر کو بہتر بنانے کی کوشش

    اترپردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر کو بہتر بنانے کی کوشش

    اترپردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر کو بہتر بنانے کی کوشش

    اتر پردیش اردو اکادمی کے موجودہ سکرٹری زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ ماضی میں الجھنے اور گزرے ہوئے وقت پر رونے سے بہتر ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے حال و مستقبل کو بہتر اور روشن بنانے کی کوششیں کی جائیں اسی نظریے کے تحت زہیر بن صغیر نے آئی ای ایس اور پی سی ایس کی کو چنگ میں داخلے کے متمنی طلبا و طالبات کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنو: اتر پردیش اردو اکادمی کے تحت چلائے جانے والے اہم ادارے “اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر“ کو بہتر بنانے، اسے وسعت دینے اور بہتر نتائج اخذ کرنے کے لئے اب خصوصی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اکادمی کے نو منتخب سکرٹری معروف آئی اے ایس، زہیر بن صغیر نے اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے اور اکادمی کے چیئرمین چودھری کیف الوریٰ اور آئی اے ایس سنٹر کے ڈائرکٹر سابق  ڈی جی پی، رضوان احمد کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد اس باب میں خصوصی کوششیں شروع کردی ہیں۔ واضح رہے کہ مزکورہ اسٹڈی سینٹر کا قیام  2015 میں سماج وادی پارٹی کے دور اقتدار میں ہوا تھا اور اسے سماج وادی پارٹی کے سربراہ رفیق الملت ملائم سنگھ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر اسٹڈی سینٹر کے قیام میں اُس وقت کے اہم لیڈر اعظم خاں نے بنیادی رول ادا کیا تھا، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام تر سہولیات فراہم کرانے کے باوجود بھی گزشتہ برسوں میں وہ نتائج اخذ نہیں کئے جاسکے، جس کے لئے اس اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں آیا تھا۔

    اتر پردیش اردو اکادمی کے موجودہ سکرٹری زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ ماضی میں الجھنے اور گزرے ہوئے وقت پر رونے سے بہتر ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے حال و مستقبل کو بہتر اور روشن بنانے کی کوششیں کی جائیں، اسی نظریے کے تحت زہیر بن صغیر نے آئی ای ایس اور پی سی ایس کی کو چنگ میں داخلے کے متمنی طلبا و طالبات کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ زہیر بن صغیر خود ایک آئی ای ایس ہیں اور بہترکام کرنے کےلئے ساہتیہ سمان جیسے اہم ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں اس لئے اہل اردو  کو یقین ہے کہ اب اس اسٹڈی سینٹر سے بہتر نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چھ سال میں یہ ادارہ ایک بھی آئی اے ایس  یا  پی سی ایس نہیں دے سکا ہے جبکہ اس اسٹڈی سنٹر میں پڑھنے والے اقلیتی بچوں کو کھانے پینے اور رہائش  کے ساتھ ساتھ تیاری کے لئے کتب اور دیگر تعلیمی سہولیات  بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں بہترین سہولیات کی مفت فراہمی کے بعد بھی مطلوبہ   نتائج کا نہ ملنا افسوس ناک ہے۔

    اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر اسٹڈی سینٹر کے قیام میں اُس وقت کے اہم لیڈر اعظم خاں نے بنیادی رول ادا کیا تھا، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام تر سہولیات فراہم کرانے کے باوجود بھی گزشتہ برسوں میں وہ نتائج اخذ نہیں کئے جاسکے، جس کے لئے اس اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں آیا تھا۔
    اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر اسٹڈی سینٹر کے قیام میں اُس وقت کے اہم لیڈر اعظم خاں نے بنیادی رول ادا کیا تھا، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمام تر سہولیات فراہم کرانے کے باوجود بھی گزشتہ برسوں میں وہ نتائج اخذ نہیں کئے جاسکے، جس کے لئے اس اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں آیا تھا۔


    زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ آئی ای ایس اور پی سی ایس کی تیاری کرنے والے طلبا و طالبات کے تعلیمی معیار کو پرکھنے کے بعد ہی انہیں داخلہ دیا جانا چاہئیے جب تک ہم تعلیمی اعتبار سے معیاری  محنتی اور سول سروسز  میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے والے بچوں کو منتخب نہیں کریں گے ہمیں اچھا رزلٹ  نہیں مل سکے گا ۔ اس حوالے سے زہیر بن صغیر نے ایک اہم منصوبہ اور خاکہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت داخلے کے پروسز کو بہتر بنایا جائے گا اور اس کے بعد  کو چنگ فراہم کرنے کے لئے بہترین اساتذہ کے ساتھ ساتھ سینئر آئی اے ایس اور پی سی ایس افسروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی  ان افسروں کے خصوصی لیکچروں  اور تجربات کے ذریعے بچوں کو خصوصی تعلیم و تربیت دی جائے گی۔

    اترپردیش اردو اکادمی کے سکریٹری زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اکادمی کے نو منتخب چئر پرسن چودھری کیف الوریٰ ایک ذہین اور دورندیش انسان ہیں لہٰذا وہ بھی اس ادارے کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں ساتھ ہی اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی رضوان احمد کے جذبوں اور تجربوں سے بھی ہم استفادہ کرکے اس اسٹڈی سنٹر کو اس منزل و مقام تک لے جائیں گے جس کے حصول کے لئے اسے قائم کیا گیاتھا۔۔واضح رہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کے تحت چلائے جارہے اردو آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر میں ایک بار پھر  اقلیتی طبقوں کے طلبا وطالبات کو مفت کوچنگ فراہم  کرانے کے لئے داخلے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے یہ ادارہ صرف مسلم بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سبھی  اقلیتی طلبا و طالبات کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ زہیر بن صغیر کی جد وجہد عزم اور حوصلے اور وضع کی گئی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ اس بار اتر پردیش اردو اکادمی کے اس ادارے سے بہتر نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: