உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انسپائرنگ اسٹوری : کہانی اس پروفیسر کی جو غریب بچوں کو دے رہا ہے مفت تعلیم ، کھانا اور گھر

    کہانی اس پروفیسر کی جو غریب بچوں کو دے رہا ہے مفت تعلیم ، کھانا اور گھر۔ فوٹو : نیو 18 ہندی

    کہانی اس پروفیسر کی جو غریب بچوں کو دے رہا ہے مفت تعلیم ، کھانا اور گھر۔ فوٹو : نیو 18 ہندی

    ڈاکٹر سید جہانگیز غریب بچوں کی مدد کرتے ہیں ۔ وہ ایسے بچوں کو مفت تعلیم ، تینوں وقت کا کھانا اور سر پر چھت فراہم کراتے ہیں ۔

    • Share this:
      یہ کہانی پروفیسر سید جہانگیز کی ہے ۔ وہ ای ایف ایل یونیورسٹی میں عرب اسٹڈیز کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔ ڈاکٹر سید جہانگیز غریب بچوں کی مدد کرتے ہیں ۔ وہ ایسے بچوں کو مفت تعلیم ، تینوں وقت کا کھانا اور سر پر چھت فراہم کراتے ہیں ۔ پروفیسر جہانگیز غریب بچوں کو زبان و ادب ، سوشل سائنس اور پولیٹیکل سائنس کی تعلیم دیتے ہیں ۔

      ڈاکٹر جہانگیر نے کہا کہ بہترین تعلیم کیلئے بڑی یونیورسٹی کی بجائے عظیم استاذ کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال ہے کہ کمزور طبقات کو معیاری تعلیم کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سب سے اچھی تعلیم حاصل کریں تو انہیں بہترین اسکول کی بجائے عظیم استاذ ملنا چاہئے ۔

      پروفیسر جہانگیز کے مطابق میں نے ایک انگریزی ماڈل اسلامک یونیورسٹی شروع کی ہے ، جہاں طلبہ انگریزی ، سنسکرت ، عربی ، اردو اور فارسی جیسی کئی زبانیں سیکھ سکتے ہیں ۔ انہیں یہاں عصری طرز پر تعلیم دی جاتی ہے ۔

      انہوں نے بتایا کہ میں صبح ای ایف ایل یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو پڑھاتا ہوں ۔ باقی کا دن پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیم میں ان کے ساتھ گزارتا ہوں ۔ میں انہیں مفت تعلیم کے ساتھ کھانا اور رہنے کیلئے گھر بھی دیتا ہوں ۔ ملک کے مختلف حصوں سے بچے ہمارے یہاں معیاری تعلیم حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ فی الحال ملٹی نیشنل کمپنیوں میں لینگویج ٹرانسلیٹر ہیں ۔

      ایک طالب علم محمد صادق نے کہا کہ میں بہار سے تعلق رکھتا ہوں ، میں گزشتہ تین سال سے یہاں تعلیم حاصل کررہا ہوں ، ہمیں جو کچھ بھی چاہئے وہ سب یہاں موجود ہے ۔ میں یہاں تعلیم حاصل کرکے کافی خوش ہوں ۔

      طالب علم سے استاذ بنے عبد العلیم نے بتایا کہ میں نے 8 سال پہلے یہاں تعلیم حاصل کی تھی ۔ اب سائنس ٹیچر کی حیثیت سے یہاں پڑھا رہا ہوں ۔ آج تعلیم کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ کئی نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کا خواب دیکھنا ہی بند کردیتے ہیں ۔ لیکن یہاں ہم معیاری تعلیم دیتے ہیں اور طلبہ میں سیکھنے کا جنون پیدا کرتے ہیں ۔
      First published: