ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی کی مسجدوں میں نہیں ادا کی جا سکے گی عید الفطر کی نماز، ہائی کورٹ سے نہیں ملی اجازت

یو پی کی مساجد اور عیدگاہوں کو عید الفطر کی نماز کے لئے ایک گھنٹے کے لئے کھولنے کی عرضی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے پہلے ریاستی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔

  • Share this:
یو پی کی مسجدوں میں نہیں ادا کی جا سکے گی عید الفطر کی نماز، ہائی کورٹ سے نہیں ملی اجازت
یو پی کی مسجدوں میں نہیں ادا کی جا سکے گی عید الفطر کی نماز

الہ آباد: یو پی کی مساجد اور عیدگاہوں  کو عید الفطر کی نماز کے لئے ایک گھنٹے کے لئے کھولنے کی عرضی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے پہلے ریاستی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ کورٹ نے  درخواست گذار کی اس عرضی کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں جون کے مہینے تک جمعہ کی نماز  ادا کرنے کے لئے ریاست کی مساجد کو  ایک گھنٹے  کے لئے کھولنے کی درخواست کی گئی تھی۔


الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل شاہد علی صدیقی نے مفاد عامہ کی یہ عرضی  داخل کی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گوند ماتھر اور جسٹس سدھارتھ ورما کی بنچ نے عرضی کی  سماعت  کرتے ہوئے کہا کہ عید کی  نماز  مسجدوں میں  ادا کرنے کے لئے عدالت سیدھے طور پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی۔ عدالت نے کہا کہ اس کے لئے عرضی گذار کو پہلے اس معاملے میں  ریاستی حکومت سے درخواست کرنی چاہئے۔


ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے پہلے ریاستی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔
ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے پہلے ریاستی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔


عدالت نے اس معاملے میں کسی طرح کی مداخلت کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ رمضان کے بعد عید کی نماز کی بہت اہمیت ہے۔ ایسے میں جبکہ حکومت کی طرف سے کئی چیزوں میں چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس صورت میں  عید الفطر کے پیش نظر ریاست کی مساجد اور عید گاہوں کو ایک گھنٹہ کے لئے کھولنے کی اجازت بھی  دی جائے۔  عرضی میں اس بات کی بھی درخواست کی گئی کہ جون مہینے میں جمعہ کی نماز کے لئے مساجد کو ایک گھنٹے کے لئے کھولنے کی اجازت فراہم کی جائے۔

 الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل شاہد علی صدیقی نے مفاد عامہ کی یہ عرضی داخل کی تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل شاہد علی صدیقی نے مفاد عامہ کی یہ عرضی داخل کی تھی۔


معاملے کی  سماعت کے دوران عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ یہ معمول کی ایک عرضی ہے جس کا تعلق انتظامی امور سے ہے ۔اس طرح کاموں  کے لئے پہلے  ریاستی حکومت سے رجوع کیا جائے ۔عدالت نے کہا کہ عرضی گذار کو اپنا مطالبہ ریاستی حکومت کے سامنے پیش کرنا چاہئے ۔اگر ریاستی حکومت کی طرف سے عرضی مسترد کی جاتی ہے تو اس کے بعد ہی عدالت   اس مسئلے پر غور کر سکتی ہے  ۔ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے   اسے ریاستی حکومت کے سامنے پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
First published: May 20, 2020 07:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading