உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra: ہمارے پاس 50 اراکین اور دو تہائی اراکین پارلیمنٹ کی حمایت، الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے اپنا موقف: ایکناتھ شندے

     ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے گروپ کے درمیان پارٹی پر حق کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں ہمیں خط لکھا ہے اور ہم اپنا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔

    ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے گروپ کے درمیان پارٹی پر حق کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں ہمیں خط لکھا ہے اور ہم اپنا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔

    ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے گروپ کے درمیان پارٹی پر حق کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں ہمیں خط لکھا ہے اور ہم اپنا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔

    • Share this:
      ممبئی: ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے گروپ کے درمیان پارٹی پر حق کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں ہمیں خط لکھا ہے اور ہم اپنا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔ ہم اصلی شیو سینا ہیں۔ ہمارے پاس 50 اراکین اسمبلی اور لوک سبھا میں پارٹی کے دو تہائی اراکین پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں۔

      الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے دونوں کو یہ ثابت کرنے کے لئے دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے لئے کہا ہے کہ ان کے پاس شیو سینا میں اکثریت کے لئے مناسب اراکین ہیں۔ دونوں گروپوں کو اب 8 اگست کو جواب دینا ہے۔ شیو سینا کے شندے گروپ نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ’دھنش تیر‘ انتخابی نشان اسے دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپنے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔

      دراصل پارٹی سے بغاوت کرنے اور بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنانے کے بعد شندے گروپ نے شیو سینا پر اپنا دعویٰ کرنا شروع کردیا۔ وہیں ادھو ٹھاکرے اور ان کے اتحادی اسے خارج کرتے آئے ہیں۔ اس موضوع سے متعلق شندے گروپ الیکشن کمیشن کے پاس چلے گئے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      مہاراشٹر: کسے ملے گا تیر-کمان: الیکشن کمیشن نے ادھو اور شندے ’سینا‘ سے مانگا جواب

      وہیں پارٹی کے لوک سبھا میں موجود 19 اراکین پارلیمنٹ میں سے 12 نے شندے گروپ کی طرف کوچ کردیا ہے۔ ایوان کے لیڈر ونائک راوت کے تئیں عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور راہل شیوالے کو اپنا لیڈر اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا میں اسپیکر نے انہیں الگ گروپ کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ان کا نیا پارٹی وہپ چیف بھی مقرر ہونے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ٹھاکرے فیملی کے ہاتھوں سے شیو سینا کی کمان کھسک سکتی ہے کیونکہ پارٹی کا نام اور انتخابی نشان شندے گروپ کو مل سکتا ہے۔

      واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مہاراشٹر میں چلے سیاسی بحران کے درمیان ایکناتھ شندے اور ان کے معاونین نے ادھو ٹھاکرے حکومت سے الگ ہوکر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنا لی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: