یوگی اورمایاوتی کےانتخابی مہم میں حصہ لینے پرپابندی

اترپردیش کے موجودہ وزیراعلی پر72 اورسابق وزیراعلی پر48 گھنٹےکےلئےانتخابی مہم میں حصہ لینےپرالیکشن کمیشن نے پابندی عائد کردی ہے۔

Apr 15, 2019 04:46 PM IST | Updated on: Apr 15, 2019 05:13 PM IST
یوگی اورمایاوتی کےانتخابی مہم میں حصہ لینے پرپابندی

علامتی تصویر

نئی دہلی:الیکشن کمیشن نےمتنازعہ تقریروں کےذریعہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کےمعاملات میں اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اورسابق وزیراعلی اوربی ایس پی کی سربراہ مایاوتی پربالترتیب 72 اور48 گھنٹےکےلئےانتخابی مہم میں حصہ لینےپر پابندی عائد کردی ہے۔

کمیشن نےان دونوں لیڈروں کو16 اپریل کی صبح 6 بجےسےانہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے، جلسہ عام کرنے، روڈ شومنعقد کرنے، میڈیا کےسامنے بیان دینےاورانٹرویودینے وغیرہ پرپابندی لگائی ہے۔ کمیشن نے یوگی آدتیہ ناتھ کو9 اپریل کومیرٹھ میں قابل اعتراض اورمتنازعہ تقریرکرنےکے معاملےمیں نوٹس جاری کیا تھا جبکہ مایاوتی کودیوبند میں7 اپریل کواشتعال انگیزتقریرکے معاملےمیں نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے انتخابی تشہیرکے دوران نفرت آمیزتقریراورمذہبی بنیاد پرووٹ مانگنے والے لیڈروں پرکارروائی نہ کرنے کولے کرالیکشن کمیشن کے محدودطاقت پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔ عدالت نے کمیشن سے منگل صبح 10:30 بجے تک جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا  'آپ ایسے معاملات کو نظراندازنہیں کرسکتے۔ آپ نےایسے بیانات پرکچھ نہیں کیا۔ آپ کوان بیانوں پرضرورکارروائی کرنی چاہئے'۔

Loading...

وہیں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق توڑنے کولے کروہ نوٹس اورایڈوائزری جاری کررہا ہے۔ وہ نہ توکسی کو نااہل قراردے سکتا ہے اورنہ ہی کسی پارٹی کوغیررجسٹرڈ کرسکتا ہے۔ اس پرچیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بینچ نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن اپنی طاقت جانتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں ہیٹ اسپیچ (نفرت آمیزتقریر)  اورفرقہ وارانہ بیان بازی کرنے والے لیڈروں کے خلاف کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن کے افسروں کی جانچ کرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کی کل صبح 10:30 بجے سماعت کریں گے اورمنگل کوالیکشن کمیشن کا کوئی نمائندہ موجود رہے۔

Loading...