نوجوت سنگھ سدھو کوالیکشن کمیشن کا نوٹس، متنازعہ بیان کے لئے 24 گھنٹے میں دینا ہوگا جواب

الیکشن کمیشن نے کٹیہارمیں طارق انورکی حمایت میں منعقدہ جلسے پرنوٹس لیا ہے اورسدھوکو نوٹس بھیج کرجواب طلب کیا ہے۔

Apr 21, 2019 07:18 AM IST | Updated on: Apr 21, 2019 07:18 AM IST
نوجوت سنگھ سدھو کوالیکشن کمیشن کا نوٹس، متنازعہ بیان کے لئے 24 گھنٹے میں دینا ہوگا جواب

نوجوت سنگھ سدھو: فائل فوٹو

حال ہی میں بہارکے کٹیہارمیں انتخابی تشہیرکے دوران سابق کرکٹراورپنجاب حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے ایک متنازعہ بیان دیا تھا، جس پرہفتہ کوالیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے اورسدھو کونوٹس بھیجا ہے۔ الیکشن کمیشن نے انہیں 24 گھنٹے کے اندرجواب دینے کا حکم دیا ہے۔

دراصل نوجوت سنگھ سدھونے مسلم طبقے سے متحد ہوکرکانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کی، جس کے بعد سدھو پرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ درج ہوگیا ہے۔ کٹیہارکے بارسوئی تھانہ میں مجسٹریٹ راجیو رنجن کے بیان پرمعاملہ درج کیا گیا ہے۔

Loading...

واضح رہے کہ کٹیہا میں نوجوت سنگھ سدھو نے کہا 'آپ (مسلم طبقے) یہاں اقلیت ہوکربھی اکثریت میں ہیں۔ آپ اگراتحاد دکھائیں گے توآپ کے امیدوارطارق انورکوکوئی بھی نہیں ہرا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریرکے دوران کہا 'آپ کی آبادی یہاں 64 فیصدی ہے۔ یہاں کے مسلمان ہماری پگڑی ہیں، اگرآپ کوکوئی پریشانی ہوتومجھے یاد کرنا، میں پنجاب میں بھی آپ کا ساتھ دوں گا'۔

پنجاب حکومت کے وزیرنے مخالفین پرنشانہ سادھتے ہوئے کہا 'یہ لوگ آپ کو تقسیم کررہے ہیں۔ مسلمانوں کوبانٹ رہے ہیں، اویسی جیسے لوگوں کولاکرووٹوں کی تقسیم کرکے جیتنا چاہتے ہیں'۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا 'آپ لوگ اکٹھا ہوکر64 فیصدی کے ساتھ آئے توسب الٹ جائیں گے اورمودی سلٹ جائیں گے(ہارجائیں گے)۔ اس بارکے الیکشن میں ایسا چھکا ماروکہ مودی باونڈری سے پارچلائے جائے'۔

واضح رہے کہ بہارمیں کل 40 لوک سبھا سیٹوں پر7 مرحلوں میں ووٹنگ ہورہی ہے۔ ریاست میں پہلے مرحلے میں 4 سیٹوں پر11 اپریل کواور18 اپریل کو ووٹنگ ہوچکی ہے۔ اب بہارمیں 23 اپریل، 29 اپریل، 6  مئی، 12 مئی اور19 مئی کوووٹنگ ہوگی۔ وہیں 23 مئی کوووٹوں کی گنتی ہوگی۔

Loading...