ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

’مسلمان اپنا ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں‘- ممتا بنرجی کے بیان پر الیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس

یہ پورا معاملہ ممتا بنرجی کے اس بیان سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے ہگلی میں مسلم رائے دہندگان سے اپنے ووٹ کو تقسیم نہ ہونے دینے کی اپیل کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے مانا ہے کہ ممتا بنرجی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔

  • Share this:
’مسلمان اپنا ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں‘- ممتا بنرجی کے بیان پر الیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس
’مسلمان اپنا ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں‘- ممتا بنرجی کے بیان پر الیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس

نئی دہلی: انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی (Model Code Of Conduct) کے معاملے میں الیکشن کمیشن (Election Commission) نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی (Mamata Banrejee) کو نوٹس (Notice) بھیجا ہے۔ معاملہ ممتا بنرجی کے اس بیان سے جڑا ہوا ہے، جس میں انہوں نے ہگلی میں مسلم رائے دہندگان سے اپنے ووٹ کو تقسیم نہ ہونے دینے کی اپیل کی تھی۔ ممتا بنرجی نے مسلم رائے دہندگان سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مختلف پارٹیوں میں اپنے ووٹ تقسیم نہ ہونے دیں۔ الیکشن کمیشن نے مانا کہ ممتا بنرجی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کے ضوابط کی خلاف ورزی کی، اس لئے انہیں نوٹس بھیجا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 48 گھنٹے میں جواب دینے کو کہا گیا ہے۔


مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی کی قیادت میں بی جے پی کے نمائندہ وفد نے ممتا بنرجی کے بیان کی الیکشن کمیشن سے شکایت کی تھی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ممتا بنرجی نے تین اپریل کو ہگلی میں مسلم رائے دہندگان کو لے کر بیان دیا تھا۔ ممتا بنرجی نندی گرام سے ترنمول کانگریس کی امیدوار بھی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ممتا بنرجی کے بیان پر مغربی بنگال میں انتخابی ریلی کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے ان کی تنقید کی تھی۔


الیکشن کمیشن نے رائے دہندگان کو دھمکانے کے الزامات کو غلط پایا


نندی گرام میں ووٹنگ والے دن رائے دہندگان کو دھمکانے کے ممتا بنرجی کے الزامات کو غلط پایا تھا اور الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایسے غلط الزامات کو لےکر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ کمیشن اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے کہ کیا ان الزامات پر انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے کہ نہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 08, 2021 01:48 AM IST