الیکشن 2019: پہلے مرحلہ میں مسلمان کسی بھی پارٹی کے ساتھ نہیں، مغربی یوپی میں ووٹ کی تقسیم کے آثار

آئندہ 11 اپریل کو مغربی یوپی کی میرٹھ، باغپت، مظفر نگر، سہارنپور، بجنور، نگینہ، کیرانہ اور بلند شہر میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا

Apr 06, 2019 10:34 AM IST | Updated on: Apr 06, 2019 12:13 PM IST
الیکشن 2019: پہلے مرحلہ میں مسلمان کسی بھی پارٹی کے ساتھ نہیں، مغربی یوپی میں ووٹ کی تقسیم کے آثار

آئندہ 11 اپریل کو مغربی یوپی کی میرٹھ، باغپت، مظفر نگر، سہارنپور، بجنور، نگینہ، کیرانہ اور بلند شہر میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا

کہتے ہیں کہ دلی حکومت کا راستہ اترپردیش سے ہو کر جاتا ہے۔ اترپردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں میں سے 8 سیٹوں پر پہلے مرحلہ کے تحت 11 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان سیٹوں پر جیت اکثریتی رائے دہندگان نہیں بلکہ اقلیتی رائے دہندگان( مسلم ووٹرز) طے کرتے ہیں۔

ایسے میں پہلے ہی مرحلہ سے صوبہ کے سیاسی درجہ حرارت اور ایس پی۔ بی ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کے سیاسی مستقبل کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، اس سوال کا بھی جواب مل جائے گا کہ مظفر نگر فسادات کی آگ میں جھلسا جاٹ اور مسلمان ایک ساتھ آ کر بی جے پی کی صورت حال بگاڑے گا یا پھر وہ مودی لہر پر سوار ہی رہے گا؟

Loading...

آئندہ 11 اپریل کو مغربی یوپی کی میرٹھ، باغپت، مظفر نگر، سہارنپور، بجنور، نگینہ، کیرانہ اور بلند شہر میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔ تمام مخالفت کے باوجود بی جے پی نے پرانے ارکان پارلیمنٹ کو میدان میں اتارا ہے۔ کیرانہ میں پارٹی نے رکن اسمبلی پردیپ چودھری کو ٹکٹ دیا ہے۔ کارکنان کی ناراضگی کی وجہ سے شروع میں مغربی یوپی کی کئی سیٹوں پر امیدواروں کے بدلنے کی بات چل رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایسا نہ ہونے پر پارٹی کے اندر وقت وقت پر ناراضگی نظر آ رہی ہے۔ وہیں، کانگریس نے بھی ان سیٹوں پر معروف چہروں کو اتارا ہے۔ دونوں پارٹیاں ان 8 سیٹوں پر جیتنے کا دعویٰ بھی کر رہی ہیں۔

کانگریس نے یوپی کی حساس کیرانہ سیٹ پر ہریندر ملک کو اتارا ہے۔ اپنی جیت کو لے کر پر اعتماد ملک کہتے ہیں کہ ’’ میں جانتا ہوں کہ مجھے برہمن، کشیپ اور جاٹ سمیت تقریبا 2.5 لاکھ ہندو ووٹ مل رہے ہیں‘‘۔ کانگریس امیدوار میرٹھ ۔ شاملی شاہراہ کے نزدیک بٹراڈا گاوں میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

ملک آگے کہتے ہیں کہ ’’ایس پی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بننے کا آ شیرواد دیا ہے۔ ایسے میں میں جانتا ہوں کہ الیکشن میں میرا بی جے پی کے ساتھ سخت مقابلہ ہونے جا رہا ہے‘‘۔ بتا دیں کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آخری دن ملائم سنگھ یادو نے ایوان میں بولتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔

مغربی یوپی میں دوسرے امیدواروں کی طرح ہریندر ملک بھی سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی زندگی سے سیاسی ترغیب لیتے ہیں۔ بٹراڈا میں ملک کا خطاب مغربی یوپی کی کچھ سیٹوں پر ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی گٹھ بندھن اور کانگریس کے بیچ مسلم ووٹوں کے حصول کی عکاسی ہے۔ یہاں کی سیاست میں مسلمان کافی اہمیت کے حامل ہیں اور انہی کے ووٹوں پر جیت منحصر ہے۔

کیرانہ کی سیٹ اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ بی جے پی نے اس سیٹ پر ملک کے سامنے موجودہ رکن اسمبلی پردیپ چودھری پر بھروسہ جتایا ہے ۔ جبکہ گٹھ بندھن کی امیدوار تبسم حسن یہاں سے میدان میں ہیں۔ تبسم حسن نے یہاں سے پچھلا ضمنی الیکشن جیتا تھا۔

سال 2014 میں مودی لہر کے بیچ اس سیٹ پر بی جے پی کے حکم سنگھ نے جیت درج کی تھی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد 2018 میں ہوئے ضمنی الیکشن میں مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار نے بی جے پی کو کراری مات دی تھی۔ راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن کو ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس نے حمایت دی تھی۔ 2017 میں مکمل اکثریت کے ساتھ اترپردیش کے اقتدار میں آنے والی بی جے پی کے لئے اس ہار کو ایک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا گیا۔ اب 2019 کے الیکشن میں یہاں بڑے الٹ پھیر کی امید کی جا رہی ہے۔

تبسم حسن کے بیٹے ناہید حسن اپنی ماں کے لئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے شاملی سے تقریبا پانچ کلومیٹر دور جاٹ اکثریتی گاؤں بیسوال میں بھی انتخابی مہم چلائی ہے۔ ناہید ان گاؤوں میں مذہب کا مدعا نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ ترقیاتی کاموں اور یوگی۔ مودی حکومت کی ناکامیوں کو اٹھا رہے ہیں۔ بتا دیں کہ کیرانہ لوک سبھا حلقہ میں کل پانچ اسمبلی سیٹیں آتی ہیں۔ پانچ میں سے چار اسمبلی سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں گئی تھیں۔

کیرانہ سے متصل سہارنپور سیٹ پر بھی مقابلہ دلچسپ ہونے والا ہے۔ کانگریس نے اس سیٹ پر عمران مسعود پر ایک بار پھر سے بھروسہ جتایا ہے۔ مسعود اس سیٹ پر تقریبا 70 ہزار ووٹوں سے پچھلا لوک سبھا الیکشن ہار گئے تھے۔ سہارنپور میں دلت اور مسلم ووٹرز کل ووٹروں کا تقریبا آدھا حصہ ہیں۔ اس سیٹ پر عمران مسعود کے خلاف گٹھ بندھن نے بی ایس پی کے فضل الرحمان کو مشترکہ امیدوار بنایا ہے۔

ایسے میں آئندہ الیکشن کو لے کر بی جے پی کو بھی ووٹوں کی تقسیم کا ڈر ستا رہا ہے۔ یہاں بی جے پی نمبر ایک کے لئے لڑ رہی ہے جبکہ کانگریس اور بی ایس پی دوسرے اور تیسرے مقام کے لئے میدان میں ہیں۔

سمت پانڈے کی رپورٹ

 

Loading...