آرٹیکل 370 کی منسوخی: پاکستان کو لگا ایک اوربڑا جھٹکا ۔ ہندوستان کی حمایت میں آگے آیا فرانس

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستان کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ فرانس کے صدر مینوئل میکرون نے ہندوستان کی حمایت میں آگے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تیسرے ملک کو اس معاملہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

Aug 23, 2019 10:38 AM IST | Updated on: Aug 23, 2019 10:38 AM IST
آرٹیکل 370 کی منسوخی: پاکستان کو لگا ایک اوربڑا جھٹکا ۔ ہندوستان کی حمایت میں آگے آیا فرانس

وزیراعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدرامانوئل میکرون بات چیت کے دوران۔(تصویر:پی ٹی آئی)۔

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستان کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ فرانس کے صدر مینوئل میکرون نے ہندوستان کی حمایت میں آگے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تیسرے ملک کو اس معاملہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔ہندوستان اور فرانس نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو بہتربنانے کے لیے حکمت عملی پرغورکیا۔وزارت خارجہ کے سکریٹری ریوش کمارنے بتایا کہ پی ایم نریندرمودی اور صدر فرانس مینوئل میکرون 90 منٹ تک بات چیت کرتے ہوئے کئی معاملوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔

 

حکام کا کہناہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدرامانوئل میکرون نے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کی ما لی امداد اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لئے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اپیل کی ۔پی ایم مودی یہاں فرانس کے دورے پر پہنچے جہاں 24 اگست کو وہ جی -7 سمٹ میں بھی شرکت کریں گے ۔ وزیراعظم مودی اورصدرامانوئل میکرون کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے القاعدہ، داعش، جیش محمد، لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے جنوبی ایشیا اورساحل خطے میں سرحد پار دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لئے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا’’دونوں لیڈروں نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کی طرف سے تجویز کردہ عالمی کانفرنس کے جلد انعقاد کے لئے کام کرنے پر اتفاق کیا‘‘۔

 وزیراعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدرامانوئل میکرون بات چیت کے دوران۔(تصویر:فائل فوٹو نیوز18 ہندی)۔ وزیراعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدرامانوئل میکرون بات چیت کے دوران۔(تصویر:فائل فوٹو نیوز18 ہندی)۔

 

پی ایم مودی نے اس سال جون میں مالدیپ کے دورے کے دوران پہلی مرتبہ دہشت گردی پر ایک عالمی کانفرنس کی تجویز پیش کی تھی ۔ دونوں لیڈرنوڈل ایجنسیوں اور دونوں ممالک کی جانچ ایجنسیوں کے درمیان بہترتعاون کو آگے بڑھانے اور انتہاپسندی کو روکنے اور از سر نو لڑنے کے لئے نئی کوششوں کے آغاز پر بھی اتفاق کیا۔ بیان کے مطابق ’پی ایم مودی اورصدر میکرون نے کثیر جہتی فورم جیسے اقوام متحدہ، جي سی ٹی ایف ، ایف اے ٹی ایف، جی 20 وغیرہ میں ’انسداد دہشت گردی کی کوششوں‘ کو مضبوط کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ‘‘۔ انہوں نے تمام اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے يواین ایس سی کی تجویز 1267 اور دیگر متعلقہ قراردادوں کو نافذ کرنے کی اپیل کی جس میں دہشت گرد تنظیموں کی شناخت کی گئی تھی ۔اس کے علاوہ دونوں نے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی دہشت گردی (سی سی آئی ٹی ) پر وسیع کنونشن کو جلد اپنانے پر لیڈروں نے مل کر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس دوران دونوں لیڈروں نے مشترکہ طور پر کہا’’دہشت گردی کو کسی بھی بنیاد پر درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے اور اسےكسي بھی مذہب، فرقہ ، قومیت اور نسل کے ساتھ نہیں جوڑاجانا چاہئے۔ واضح ر ہے کہ پی ایم مودی فرانس کے دو روزہ دورے پر ہیں جس کے بعد وہ 24 اگست کو منعقد ہونے والی جی -7 سمٹ میں حصہ لیں گے ۔

 

Loading...