ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہڑتال پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں دہلی وقف بورڈ کے ملازمین ، جانئے کیا ہے اصل معاملہ

بورڈ کے ملازمین خطوط ارسال کرنے کے لئے بھی اپنے پاس سے رقم خرچ کررہے ہیں جبکہ بیوائیں اپنی پیشن کے لئے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں ۔ بورڈ کے دفتر کا بجلی بل بھی نہیں بھرا جاسکا ہے اور ایسے حالات میں بورڈ پر کبھی بھی تالا لگ سکتا ہے ۔

  • Share this:
ہڑتال پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں دہلی وقف بورڈ کے ملازمین ، جانئے کیا ہے اصل معاملہ
ہڑتال پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں دہلی وقف بورڈ کے ملازمین ، جانئے کیا ہے اصل معاملہ

دہلی وقف بورڈ کے ملازمین، مساجد کے امام ، گزشتہ پانچ ماہ سے اپنی تنخواہ کو لے کر دقتوں کا سامنا کررہے ہیں ۔ جبکہ بیوائیں اور یتیم اپنی پینشن اور امدادی رقوم کی راہ دیکھ رہے ہیں ، لیکن اب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے اور اب دہلی ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کو لے کر ہونے والے انتخاب کو ایک ماہ کے لئے ملتوی کئے جانے کے بعد وقف بورڈ کے ملازمین میں مایوسی پھیل گئی ہے اور ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے ۔


اطلاعات یہ ہیں کہ اگر دہلی حکومت نے اس مسئلہ پر توجہ نہیں دی تو وقف بورڈ کے ملازمین تنخواہ کے مطالبات کو لے کر ہڑتال پر جاسکتے ہیں ۔ تاہم آج وقف کے ملازمین کی جانب سے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کیلئے باضابطہ وقف بورڈ اراکین کو لکھے گئے خط کی کاپی بھیجی گئی ہے ۔ خط میں ملازمین کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ انھوں نے وزیر ریونیو کیلاش گہلوت اور دوسرے افسران کو سیلری نہ ملنے کو لے کر کئی بار آگاہ کیا اور ہر مرتبہ ان کو زبانی یقین دہانی کرائی گئی کہ جلد ہی یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ تاہم مسئلہ ہنوزبرقرار ہے ۔


خاص طورپر دہلی وقف بورڈ کے سی ای او کو بھی اس معاملہ کا پتہ ہے ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام افراد اس معاملے سے پہلو تہی کررہے ہیں اور مسئلہ کو حل نہیں کرنا چاہتے ۔ وقف بورڈ اراکین کو اس مسئلہ کی جانب فوری توجہ دینی چاہئے اور اس معاملے کو لے کر وقف بورڈ کی میٹنگ بلاکر مسئلہ کو حل کرنا چاہئے ۔


وقف بورڈ کے دفتری اخراجات بھی نہیں ہورہے پورے

وقف بورڈ کے ملازمین سے ملی تفصیلات کے مطابق پانچ ماہ سے افسران اور سی ای او دفتری اخراجات کیلئے بھی فنڈ فراہم نہیں کرا رہے ہیں ۔ بورڈ کے ملازمین خطوط ارسال کرنے کے لئے بھی اپنے پاس سے رقم خرچ کررہے ہیں جبکہ بیوائیں اپنی پیشن کے لئے دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں ۔ بورڈ کے دفتر کا بجلی بل بھی نہیں بھرا جاسکا ہے اور ایسے حالات میں بورڈ پر کبھی بھی تالا لگ سکتا ہے  ۔

بورڈ کے اکاونٹ میں آٹھ کروڑ روپے موجود

ایک جانب بورڈ کے ملازمین افسر تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ایک ایک پائی کو ترس رہے ہیں تو وہیں بورڈ کے اکاﺅنٹ میں بھاری بھرکم آٹھ کروڑ کی رقم موجود ہے ، لیکن فنڈ نکالنے کے لئے دو بورڈ ممبروں کا دستخط کرنے کا اہل ہونا ضروری ہے ۔بورڈ میں فنڈ نکالنے کے لئے دستخط کرنے کے اہل تین اراکین ہیں ۔ بورڈ کے چیئرمین کو دستخط کرنے کا حق حاصل ہے  ۔ تاہم چیئرمین گزشتہ 9 ماہ سے نہیں ہے ۔ اسی طرح سے بورڈ کے سی ای او کو بھی دستخط کرنے کا حق حاصل ہے تاہم بورڈ کے سی ای او تنویر احمد کئے ماہ پہلے چارج لینے کے باجود بینک میں اپنے دستخط منظور کرانے کی کاروائی پوری نہیں کرسکے ہیں ۔ جبکہ ایک ممبر حمال اختر دستخط کرنے کے اہل ہیں اور ایسے میں صرف حمال اختر ہی دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ تاہم کوئی دوسرا بورڈ ممبر دستخط کرنے والا نہیں ہے ۔ ایسے میں بورڈ کے ملازمین ،بورڈ کی مساجد کے تین سو کے قریب امام وموذن اپنی سیلری کیلئے ترس رہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 21, 2020 11:26 PM IST