ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: کورونا قہر میں ملازمین پر ٹوٹا قہر، محکمہ سیاحت کے ملازمین کو بغیر نوٹس کے دکھایا گیا باہر کا راستہ

محکمہ سیاحت میں سب انجینئر کے عہدے پر 12 سال سے فائز انیرودھ کھرے کہتے ہیں کہ ہم تو محکمہ سیاحت کےتغلقی فرمان کو اب تک سمجھ نہیں سکے ہیں۔ محکمہ سیاحت کے ضابطے کے مطابق، کسی بھی ملازم کو باہر کئے جانے سے پہلے اسے کم ازکم دو ماہ کا نوٹس دیئے جانے کا ضابطہ ہے، مگر ہمیں تو سینچر کی شام کو یہ کہہ دیا گیا کہ آپ کل سے آفس نہیں آئیں گے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: کورونا قہر میں ملازمین پر ٹوٹا قہر، محکمہ سیاحت کے ملازمین کو بغیر نوٹس کے دکھایا گیا باہر کا راستہ
مدھیہ پردیش: کورونا قہر میں ملازمین پر ٹوٹا قہر، محکمہ سیاحت کے ملازمین کو بغیر نوٹس کے دکھایا گیا باہر کا راستہ

بھوپال: کورونا قہر میں عوام کتنی مشکلات سے دوچار ہیں، اس کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس مشکلات میں اگر سرکاری محکموں کے ذریعہ ملازمین کو بنا کسی نوٹس کے باہر کا راستہ دکھادیا جائے تو ان کی مشکلات کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ سرکاری کی جانب سے بھلے ہی ملازمین کو لے کر ہمدردانہ رخ اختیار کرنے کی بات کی جاتی ہو مگر زمینی حقیقت  کچھ اور ہے۔ مدھیہ پردیش محکمہ سیاحت نے ایک دو نہیں بلکہ تیراسی ملازمین کو ایک فیصلہ میں باہر کا راستہ دکھادیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ محکمہ سیاحت نے ملازمین کو باہر کرنے سے پہلے کسی قسم کا نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

حالانکہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کورونا قہر میں سرکاری کیا پرائیویٹ کمپنیوں سے بھی کئی بار ملازمین کو باہر نہیں کرنےکا بیان جاری کر چکے ہیں، مگر جب ان کی حکومت میں ہی محکمہ سیاحت کے ذریعہ ایسا سخت قدم اٹھایا جاتا ہے تو وزیرسیاحت ہی کیا خود وزیر اعلی کی خاموشی بھی معنی خیز لگتی ہے۔

محکمہ سیاحت میں سب انجینئر کے عہدے پر 12 سال سے فائز انیرودھ کھرے کہتے ہیں کہ ہم تو محکمہ سیاحت کے تغلقی فرمان کو اب تک سمجھ نہیں سکے ہیں۔ محکمہ سیاحت کے ضابطے کے مطابق کسی بھی ملازم کو باہرکئےجانے سے پہلے اسے کم ازکم دو ماہ کا نوٹس دیئے جانے کا ضابطہ ہے، مگر ہمیں تو سینچر کی شام کو یہ کہہ دیا گیا کہ آپ کل سے آفس نہیں آئیں گے۔ اس سلسلے میں جب ہم نے اور ہمارے دوسرے ساتھیوں سے  اعلی حکام سے بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے ہمیں منع کردیا گیا۔ بعد میں میڈیا میں اس کی خبریں آئیں تو اب یہ کہہ دیا گیا کہ محکمہ سیاحت مالی  مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں ملازمین کی تنخواہ ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس فنڈ نہیں ہے۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ ایک جانب یہ کہتے ہیں کہ صوبہ کی ترقی کے لئے فنڈ کی کمی کہیں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ وہیں دوسری جانب ایک ساتھ 83 ملازمین کو باہرکردیا جاتا ہے اور سرکار میں بیٹھے سبھی لوگ خاموش رہتے ہیں۔ جبکہ ان 83 ملازمین کی ماہانہ تنخواہ پانچ لاکھ کے قریب ہی ہوتی ہے۔ کیا شیوراج سنگھ کورونا قہر اور تیوہاروں کے موسم میں ہم غریب ملازمین کی تنخواہ کے لئے پانچ لاکھ کا انتظام نہیں کر سکتے ہیں۔


مدھیہ پردیش کی وزیر سیاحت اوشا ٹھاکر سے نیوز 18 اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔ کورونا قہر میں کسی کو ملازمت سے باہر نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کو لے کرمیں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ سے بھی بات کروں گی۔
مدھیہ پردیش کی وزیر سیاحت اوشا ٹھاکر سے نیوز 18 اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔ کورونا قہر میں کسی کو ملازمت سے باہر نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کو لے کرمیں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ سے بھی بات کروں گی۔


وہیں محکمہ سیاحت میں 11 سال سے چپراسی کی ملازمت کرنے والے محمدشریف کہتے ہیں کہ ایک طرف محکمہ ہم لوگوں سے مالی مشکلات کی بات کرکے 83 لوگوں کو باہر کرتا ہے۔ وہیں دوسری جانب وہ لوگ جو محکمہ سیاحت سے لاکھوں میں تنخواہ لیتے ہیں وہ لوگ محکموں میں برقرار ہے۔ محکمہ سیاحت نے تین ماہ قبل جب ہم لوگوں سے مالی مشکلات کا ذکر کیا تو ہم لوگوں نے نصف تنخواہ پر کورونا قہر میں کام کرنا منظور کرلیا تھا، اس کے باوجود ہم لوگوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا گیا ہے۔ ہم لوگوں نے گاندھی وادی طریقے سے احتجاج شروع کیا ہے اور آگے بھی حقوق کے لئے لڑتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ محکمہ سیاحت کے ان ملازمین کو تھرڈ آئی ایجنسی کے ذریعہ ملازمت میں رکھا گیا تھا اور ان 83 ملازمین کو بغیرکسی نوٹس کے باہرکیا گیا ہے۔ وہیں اس معاملے میں جب مدھیہ پردیش کی وزیر سیاحت اوشا ٹھاکر سے نیوز 18  اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔ کورونا قہر میں کسی کو ملازمت سے باہر نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کو لے کرمیں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ سے بھی بات کروں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ذریعہ یہ کہا گیا تھا کہ کسی کو ملازمت سے باہر نہیں کیا جائے گا۔ ملازمین کو صبروتحمل سے کام لینا چاہئے۔ محکمہ سیاحت ایک جانب 83 لوگوں کو ملازمت سے بغیرکسی نوٹس کے باہر کرنے کا احکام جاری کرتا ہے۔ وہیں دوسری جانب وزیر سیاحت پورے معاملے سے اپنی لا علمی کا اظہارکرتی ہیں۔ مگر وزیر سیاحت یہ بات ضرور کہتی ہیں کہ ملازمین کےحقوق کو لے کر وہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے بات کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیر سیاحت کی بات صرف بات تک رہتی ہے یا اس بات سے ملازمین کےحق میں کوئی راہ بھی نکلتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 24, 2020 10:42 PM IST