ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان آندولن کے درمیان 800 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے کی زرعی قانون کی حمایت

Farmer Protest: کسان آندولن مسلسل جاری ہے۔ کسانوں نے پورے ملک میں 14 دسمبر کو بھوک ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس درمیان 800 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے حکومت کو زرعی قانون پر اپنی حمایت دی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسانوں کی فلاح کے لئے ایک مثال ثابت ہوگا۔

  • Share this:
کسان آندولن کے درمیان 800 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے کی زرعی قانون کی حمایت
کسان آندولن کے درمیان 800 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے کی زرعی قانون کی حمایت

نئی دہلی: زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اب تک کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے۔ حالانکہ اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ اس درمیان 800 سے زیادہ ماہرین تعلیم نے حکومت کو زرعی قانون پر اپنی حمایت دی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ بل کسانوں کی بہتری کے لئے ایک مثال ثابت ہوگا۔ ماہرین تعلیم نے کہا کہ ہندوستان کے شہریوں اور مختلف تعلیمی ادارون کے اراکین کے طور پر ہم مرکزی حکومت کے ذریعہ منظور کئے گئے زرعی اصلاحات بل، 2020 کی پُرزور حمایت کرتے ہیں۔ ہم کسانوں کی زندگی کی حفاظت کے لئے کسانوں کو حکومت کی یقین دہانی پر بھروسہ کرتے ہیں کہ اس قانون سے کسی بھی کسان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔


مرکزی حکومت نے دیا کسانوں کو بھروسہ


ان دنوں زرعی قانون کا اہم مقصد زرعی تجارت کو سبھی رکاوٹوں سے آزاد کرنے اور کسانوں کو مناسب قیمتوں پر سبھی لین دین کے لئے اہل بنانا ہے۔ مرکزی حکومت نے کسانوں کو بار بار یقین دہانی کرائی ہے کہ فارم ٹریڈ کے تینوں بل کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) کو ختم نہیں کریں گے، بلکہ سبھی غیرقانونی بازاروں سے پابندی سے زرعی فارم ٹریڈ کو آزاد کریں گے۔ ’منڈیوں’ سے اوپر اٹھ کر بازار کھولیں گے اور آگے تعاون کریں گے تاکہ چھوٹے اور متوسط کسان مسابقتی قیمتوں پر اپنے اناج بیچنے میں اہل ہوں۔ نئے قانون کسانوں کو اپنے اناج بیچنے کے لئے مکمل خودمختاری فراہم کرتے ہیں۔


جانیں تینوں زرعی قانون

زرعی بل سے متعلق تین قانون ہیں۔ ان میں کسانوں کی پیداوار تجارت اور تجارت (فروغ اور آسانیاں) قانون، 2020، کسان (امپاورمنٹ اور تحفظ) زرعی خدمات سے متعلق پرائس انشورنس اینڈ ایگریمنٹس ایکٹ 2020 اور ضروری اجناس (ترمیمی) ایکٹ 2020 شامل ہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 01, 2021 09:12 PM IST