உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈائمنڈ رنگ نہ دینے پر ٹوٹ گئی منگنی، لڑکے والوں نے لڑکی کو بے رحمی سے پیٹا

    ڈائمنڈ رنگ نہ دینے پر ٹوٹ گئی منگنی، لڑکے والوں نے لڑکی کو بے رحمی سے پیٹا

    ڈائمنڈ رنگ نہ دینے پر ٹوٹ گئی منگنی، لڑکے والوں نے لڑکی کو بے رحمی سے پیٹا

    Punjab News: لڑکی کے اہل خانہ نے پولیس کو دیئے بیان میں کہا ہے کہ منگنی طے ہونے سے پہلے لڑکے والوں نے ڈائمنڈ رنگ کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن منگنی کے وقت وہ یہ مانگنے لگے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب (Punjab) کے جالندھر (Jalandhar) کی راما منڈی میں ایک ہوٹل میں چل رہی منگنی تقریب (Engagement ceremony) میں ڈائمنڈ کی انگوٹھی (Diamond ring) کے مطالبہ سے متعلق لڑکی اور لڑکے کے اہل خانہ میں تنازعہ ہوگیا۔ تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ دونوں فریق میں ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ جہاں ڈائمنڈ رنگ نہ ملنے پر یہ منگنی ٹوٹ گئی۔ وہیں لڑکے والوں پر لڑکی کے بال کھینچ کر اس کی پٹائی کرنے کے بھی الزام لگے ہیں۔ لڑکی فریق والے انگوٹھی نہیں ملنے اور مارپیٹ کرنے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے ہیں۔ لڑکا فریق کی شکایت پر پولیس ان کی تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ یہ تمام حادثہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئی ہے۔ پولیس نے تمام فوٹیج قبضے میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے۔

      پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق، لڑکی کے اہل خانہ نے پولیس کو دیئے بیان میں کہا ہے کہ منگنی طے ہونے سے پہلے لڑکی والوں نے ڈائمنڈ انگوٹھی کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن جب اتوار کو منگنی کے دوران انگوٹھیاں بدلنے کی رسم شروع ہوئی تو لڑکے والوں نے دو ڈائمنڈ رنگ، سونے کے کڑے اور بالیوں کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔

      اسی بات کو لے کر دونوں فریق میں جھڑپ ہوگئی۔ اس دوران منگنی کرنے والے بچولئے کو بھی وہاں بلایا گیا۔ جہاں اس نے بتایا کہ لڑکے کی پہلے شادی ہوچکی ہے اور دو بچے بھی ہیں۔ وہ اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ چکا ہے۔ اس پر لڑکی والے منگنی کرنے والی فیملی کے خلاف بری طرح بھڑک گئے۔

      شکایت میں کہا گیا ہے کہ لڑکے والوں نے لڑکی کے بال پکڑ کر پیٹا اور گھسیٹا۔ پولیس کو کال کرنے پر لڑکے والے اپنا سامان اور گفٹ ہوٹل میں ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے موقع کا جائزہ لے کر ہوٹل انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج اپنے قبضے میں لی ہے۔ ملزم فرار ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: