ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

میکانکس کی خدمات کاجشن منانےوالی ایک دلکش پیش قدمی'انجن کےسُپراسٹارز'کےبارےمیں سب کچھ جانئے

انجن کے سُپر اسٹارزکورونا وبا کے دور میں میکانکوں اور ان کی ایجادی کاوش کا جشن مناتا ہے

  • Share this:
میکانکس کی خدمات کاجشن منانےوالی ایک دلکش پیش قدمی'انجن کےسُپراسٹارز'کےبارےمیں سب کچھ جانئے
انجن کے سُپر اسٹارز وبا کے دور میں میکانکوں اور ان کی ایجادی کاوش کا جشن مناتا ہے

گزشتہ سال جب Covid-19 دنیا اور بھارت پر حملہ آور ہوا، تو ملک گیر سطح پر ہونے والے لاک ڈاؤن کے سبب تقریباً سنسان ہو چکی سڑکیں، اس نئی عام زندگی کی سب سے بڑی علامت بن گئیں۔ اس صورتحال نے موٹر گاڑیاں استعمال کرنے والوں کی زندگی کو روک دیا اور گیراج کے میکانکس یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے۔


دوسری طرف، چند میکانک نے اپنے فرض کی انجام سے بالا تر ہو کر اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے کاروبار قابل ستائش اثرپذیری کے ساتھ اس نئی عام زندگی سے مانوس ہو جائیں۔ اب ان میکانکس کا انتخاب انجن کے سُپر اسٹارز ۔ سیزن 2 کے فاتحین کے طور پر کیا گیا ہے جو Total Oil India اور Network 18 گروپ کی مشترکہ ستائشی پیش قدمی ہے۔


جیسا کہ Total Oil India کے لوبریکینٹ ڈویژن کے سی ای او سید شکیل الرحمن نے کہا، ’’انجن کے سُپر اسٹارز شو میکانکس میں ایجاد کی روح کی نظیر پیش کرتا ہے۔ ہم ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے تھے اور وبا کے دوران جو کچھ ہوا، ہم ان میں سے تحریک دینے والی کچھ کہانیوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے۔‘‘


یہ کام سر انجام دینے کیلئے، ملک بھر میں ایک سروے کا اہتمام کیا گیا تاکہ میکانکس کی ترقی کی کہانیاں جمع کی جا سکیں اور یہ پتا لگایا جا سکے کہ انہوں نے ایک ایسے چیلنجنگ وقت کے دوران، جس سے ملک گزشتہ کئی برسوں سے دو چار نہیں ہوا تھا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کس طرح نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کی مدد کی بلکہ کسٹمرز کو بھی اپنی خدمات فراہم کیں۔ شکیل الرحمن نے کہا، ’’وبا کے دوران ٹیکنالوجیکل چیلنجز میں زبردست اضافہ ہو گیا تھا۔ ہم نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ میکانکس اپنے موبائل فونز کا استعمال اتنے موثر انداز میں کریں گے۔ انجن کے سُپر اسٹارز کے ذریعے، اب ہم میکانکس کے تئیں لوگوں کے اظہار تشکر جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور استحکام اور ایجا کی ان کی کہانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹ رہے ہیں۔‘‘

انجن کے سُپر اسٹارز ۔ سیزن 2 کے فاتحین کے بارے میں مزید جاننے کیلئے پڑھنا جاری رکھیں۔

  1. پھانی بھوشن کے، وجے واڑہ


پھانی بھوشن کے نے اپنے بھائیوں اور پانچ دیگر لوگوں کے ساتھ 2004 میں اپنا آؤٹ لیٹ شروع کیا۔ 2005 میں انہوں نے فوری طور پر اس میں توسیع کی اور جب لاک ڈاؤن لگا تو ان کے پاس 10 لوگوں پر مشتمل ایسا عملہ تھا جس کی انہیں دیکھ بھال کرنی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیسے کمانے اپنی گڈ وِل کو بہتر بنانے کی غرض سے ایک خاتون کی کار کی مرمت کرنے کیلئے حیدر آباد تک ڈرائیونگ کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ گاڑیوں میں Total کا سنتھیٹک آئل ہی ڈالتے ہیں جس سے گاڑی 15000 کلو میٹرز تک چلنے کے بعد ہی آئل تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے نہ کہ ہر 7000 تا 8000 کلو میٹر چلنے کے بعد، جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا۔

  1. امیت فالڈو، راج کوٹ، گجرات


امیٹ فالڈو کی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیتوں کا امتحان اس وقت ہوا جب وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن لگا۔ ڈاکٹروں اور پولس والوں جیسے لوگوں کی لازمی سروس کی خاطر کام کرنے والوں کی گاڑیوں کی دیکھ بھال کرنے سے لے کر کسٹمرز کے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کیلئے ویڈیو کالز کے استعمال اور بڑے مسائل حل کرنے کیلئے WhatsApp گروپ تخلیق کرنے تک، فالڈو نے سبھی کام عمدہ طریقے سے کئے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، بلکہ اس نے سینیٹائزیشن اسپاٹس سیٹ اپ کر کے اور اپنے آؤٹ لیٹ کے پیچھے واقع ایک بڑے میدان میں گاڑیاں سروس کر کے اپنے ساتھ ورکرز کو نہ صرف سماجی فاصلہ قائم کرنے کی سہولت دی بلکہ انہیں وائرس سے متاثر ہونے کے بغیر کام کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ وہ انتہائی دانش مندانہ اقدام تھا!

  1. جی راجی ریڈی، سکندر آباد، تیلنگانہ


جی راجی ریڈی نے لاک ڈاؤن کے دوران زیادہ لوگوں کو تربیت دی تاکہ وہ لوگ ان لوگوں کی مدد کر سکیں جن کی گاڑیاں خراب ہو گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ گاڑیاں خراب ہو رہی تھیں اور ان کی مرمت کیلئے کسی ماہر کی ضرورت تھی۔ ویڈیو کالز سے لے کر مسائل حل کرنے اور ذاتی طور پر مسائل حل کرنے کیلئے 150 تا 170 کلو میٹرز کا سفر کرنے تک، ریڈی نے سبھی کام عمدہ طریقے سے کئے ہیں۔ کاروباری مواقع میں اضافہ کرنے کیلئے، انہوں نے اپنے کسٹمرز سے پہلے کے مقابلے کم پیسے لینا شروع کر دیا!

  1. وجے منتری، سیہور، مدھیہ پردیش


وجے منتری کی ٹیم نے پولس والوں اور اسپتال کے ورکرز جیسے فرنٹ لائن اسٹاف کی گاڑیوں پر کام کیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے کھانے بھی فراہم کئے اور لوگوں کو سینیٹائزیشن اور ماسک لگانے کی تلقین بھی کی۔ چونکہ نقل و حمل مشکل تھا اور سروسنگ کیلئے انجن آئل جیسی ضروری چیزیں حاصل کرنے ایک چیلنج بن گیا تھا، منتری نے اپنے آؤٹ لیٹ تک یہ سامان لانے کیلئے اپنی وین بھوپال اور اندور جیسے دور افتادہ شہروں میں بھیجی۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں، لاک ڈاؤن نے انہیں نئے تجربات سے ہمکنار کیا، انہوں نے نئی چیزیں سیکھی اور انہیں نئے کلائنٹس ملے۔

  1. سدھیندر ٹی ایس، کرناٹک


سدھیندر ٹی ایس نے لاک ڈاؤن کے دوران خراب گاڑیوں پر کام کرنا شروع کیا اور گاڑیاں ٹھیک کرنے کیلئے لاک ڈاؤن کے بعد کے اپوائنٹمنٹس دینا شروع کیا۔ ایک مشیر کسٹمرز کو مطلع کر دیتا تھا کہ گاڑی کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اور وہ ایک سینیٹائز کردہ ماحول میں کام کرنے کی شرط پر اس کا متوقع حل بھی بتاتے تھے۔ انہوں نے اپنے اسٹاف کو Covid-19 سے متعلق ٹریننگ بھی دی اور ہر 30 منٹ بعد سینیٹائزر استعمال کرنے کی اہمیت اور کام شروع کرنے سے پہلے گاڑی کو سینیٹائز کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ، ان کی پیش قدمی اور پروٹوکولز سے آمدنی میں اضافہ ہوا اور انجن کا سُپر اسٹار بننے میں ان کی مدد کی۔

ان میکانکس نے چیلنجز کا کس طرح مقابلہ کیا اور کس طرح ان پر قابو پایا، اس سے متعلق کہانیاں پڑھنا واقعی باعث تحریک ہے۔ زندگی بسر کرنے کیلئے اپنی ذاتی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے لے کر لازمی خدمات فراہم کرنے والوں کی مدد کرنے تک، ان کا تعاون یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ انہیں انجن کے سُپر اسٹارز کی پیش قدمی کی جانب سے خاطر خواہ خراج تحسین پیش کیا جائے۔

آپ بھی میکانکس کی ایسی ملتی جلتی کہانیاں ساجھا کر سکتے ہیں جنہوں نے چیلنج کا مقابلہ کیا یقیناً وہ انجن کے سُپر اسٹارز کے طور پر پہچانے جانے کے حقدار ہیں۔ بس یہاں جائیں اور اپنے ذاتی میکانک کی گراں مایہ خدمات کے بارے میں بتائیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 22, 2021 10:22 PM IST

تازہ خبر