اترپردیش : اٹاوہ جیل میں بند 200 سے زائد قیدی مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا اٹھا رہے ہیں خرچ

اترپردیش کےضلع اٹاوہ جیل میں سنگین جرائم میں بند 200 سے زائد قیدیوں کوسخت محنت ومشقت سےملنےوالی مزدوری سے وہ گھروالوں کی زندگی کوبہتربنانے میں لگے ہوئےہیں۔

Apr 26, 2018 07:14 PM IST | Updated on: Apr 26, 2018 07:14 PM IST
اترپردیش : اٹاوہ جیل میں بند 200 سے زائد قیدی مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا اٹھا رہے ہیں خرچ

فائل فوٹو

اٹاوہ : اترپردیش کےضلع اٹاوہ جیل میں سنگین جرائم میں بند 200 سے زائد قیدیوں کوسخت محنت ومشقت سےملنےوالی مزدوری سے وہ گھروالوں کی زندگی کوبہتربنانے میں لگے ہوئےہیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ راج کیشور سنگھ کے مطابق قیدیوں کےمعاوضے کی ادائیگی رہائی کےوقت چیک سےکی جاتی ہے۔اسے حوصلہ افزائی کارقم کہاجاتاہے۔جو قیدی دوسے چارمہینے میں اپنےمعاوضے کی اجرت لیناچاہتاہے۔اسے ان کےمطالبے کی بنیادپردے دیاجاتاہے۔قیدی کےگھروالےوقتاًفوقتاً ملنے کےلئےآتےرہتے ہیں۔اس وقت قیدی اپنے گھر والوں کواجرت کی رقم دیتاہے۔

انہوں نےبتایاکہ کچھ قیدی اپنی اس اجرت سےجرمانہ بھی اداکرتےہیں ساتھ ہی اپنےمقدمےکی پیروی بھی کرتےہیں۔خواتین بیرک میں تقریبا دس خاتون قیدی ہیں جو باورچی خانے اور حفظان صحت میں کام کرتی ہیں۔انہیں بھی معاوضہ دیاجاتا ہے۔

مسٹرسنگھ نےبتایاکہ اٹاوہ جیل میں بند سزایافتہ قیدیوں کےکام کی اجرت حکومت کی طرف سے ادا کی جاتی ہے۔قیدیوں کےمعاوضے کی رقم بھی الگ الگ ہیں۔جوقیدی کام میں ماہرہوتے ہیں ،انہیں ہنرمند کےاعتبارسے یومیہ 40 روپے اداکئےجاتےہیں۔نیم ہنرمند قیدیوں کویومیہ 30 روپے ادا کئے جاتے ہیں۔وہیں صاف صفائی اورباغبانی کا کام کرنےوالےقیدیوں کو یومیہ 25 روپے بطوراجرت دی جاتی ہے۔

انہوں نےبتایاکہ قیدیوں کی جانب سےسبزی اگانےسےلیکرباورچی خانہ، بیکری ، صاف صفائی وغیرہ کےعلاوہ بھی کام لئے جاتے ہیں۔صرف بالغ قیدیوں کومعاوضہ ملتاہے۔چھوٹے چھوٹے قیدیوں کے لئے حکومت کی طرف سےکسی معاوضےکاانتظام نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نےبتایاکہ قتل،ڈکیتی اوردیگر سنگین جرائم کی سزاکاٹ رہےقیدی اپنے گھروالوں کےتئیں جیل میں رہ کربھی کافی سنجیدہ ہیں۔وہ یہاں سخت محنت کررہےہیں اوراس سےملنےوالی اجرت سےاپنےگھروالوں کاخرچ چلارہے ہیں۔ان قیدیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

Loading...

Loading...