ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیردورے پریورپی پارلیمان کا 23 رکنی وفد: سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور عوامی وفود سے ملاقات

۔وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن منگل کے روز فوج کے علاوہ قریب پندرہ وفود سے ملاقات کی۔ شام کے قریب پانچ بجے شہرہ آفاق ڈل جھیل کی سیر کی۔

  • Share this:
کشمیردورے پریورپی پارلیمان کا 23 رکنی وفد: سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور عوامی وفود سے ملاقات
کشمیردورے پریورپی پارلیمان کا 23 رکنی وفد: سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور عوامی وفود سے ملاقات۔(تصویر:اے این آئی،ٹویٹر)۔

یورپی پارلیمان کا 23 رکنی وفد کشمیرکے دو روزہ دورے پرمنگل کے روزسری نگر پہنچا جہاں اس وفد نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ فوج، پولیس و سول انتظامیہ کے سینئرعہدیداروں کے علاوہ چند سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور عوامی وفود سے ملاقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن منگل کے روز فوج کے علاوہ قریب پندرہ وفود سے ملاقات کی۔ شام کے قریب پانچ بجے شہرہ آفاق ڈل جھیل کی سیر کی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو جموں وکشمیرکو خصوصی موقف دینے والے آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کومنسوخ کئے جانے اور ریاست کو منقسم کرکے 2 یونین ٹریٹریزمیں تبدیل کرنے کےبعد کسی بھی غیرسرکاری وغیر ملکی وفد کا پہلا دورہ کشمیر ہے۔


 


یورپی وفد نے پیر کے روز قومی راجدھانی نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس دوران کشمیر کی موجودہ صورتحال زیر بحث آئی۔ وفد نے نئی دہلی میں بعض کشمیری مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈران بالخصوص مظفر حسین بیگ اور الطاف بخاری سے بھی ملاقات کی۔یہ وفد دراصل 27 یورپی اراکین پارلیمان پر مشتمل تھا جن میں سے چار اراکین نئی دہلی سے اپنے وطن واپس ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں اس وفد کی تعداد سمٹ کر 23 پرآگئی ہے۔



سرکاری ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ یورپی پارلیمان کا وفد منگل کی صبح کڑے سیکورٹی حصار میں سری نگر پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ وفد نے سونہ وار علاقہ میں واقع بادامی باغ فوجی چھاونی میں سینئر فوجی عہدیداروں بشمول فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلون سے ملاقات کی۔ اس موقع پر فوج نے کشمیر میں امن وامان کی بحالی کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات پر پاور پائونٹ پریذنٹیشن دکھائی۔ذرائع نے بتایا کہ وفد یہاں ایک ہوٹل میں اپنے قیام کے دوران مختلف وفود سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے کہا: 'وفد نے منگل کے روز وفود سے ملاقات کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پنچایتی اراکین اور کچھ سیاسی جماعتوں کے لیڈران بالخصوص بی جے پی سمیت قریب پندرہ وفود سے ملاقات کی'۔بی جے پی کشمیر کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بی جے پی کے آٹھ اراکین پر مشتمل ایک وفد نے یورپی اراکین پارلیمان کے ساتھ ملاقات کی۔

 

انہوں نے کہا: 'ہم نے یورپی پارلیمان کے اراکین کو بتایا کہ کشمیری امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ ہم نے وفد کو بتایا کہ دفعہ 370 کی وجہ سے یہاں شفافیت اور احتساب کا فقدان تھا۔ اس کی وجہ سے یہاں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی بڑھتی تھی۔ ہم نے کہا کہ عام کشمیر بچوں کے لئے تعلیم اور روزگار چاہتا ہے'۔ان کا مزید کہنا تھا: 'ہم نے وفد کو بتایا کہ باہری دنیا کو کشمیر کی صحیح تصویر نہیں دکھائی جاتی۔ حقیقی تصویر یہ ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے'۔بی جے پی ترجمان نے مزید کہا کہ جب بی جے پی وفد نے یورپی اراکین پارلیمان سے ملاقات کی اس وقت 12 وفود انتظار میں تھے۔



ایک رپورٹ میں وفد کے ایک رکن بی این ڈن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ وادی میں عام کشمیریوں سے ملاقات کرنے اور وہاں کے حالات جاننے کے لئے آئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں دفعہ 370 کے بارے میں بتایا لیکن وہ خود کشمیر جا کر زمینی حقائق معلوم کرنا چاہتے تھے۔ملک کی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس نے یورپی اراکین پارلیمان کے دورہ کشمیر پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب ملک کے سیاستدانوں کو جموں وکشمیر میں لوگوں سے نہیں ملنے دیا جارہا تو یورپی پارلیمان کے اراکین کو اس کی اجازت کیونکر دی گئی۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے مطابق یہ ملک کی پارلیمان اور جمہوریت کی توہین ہے۔

 

ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر آنے والے یورپی پارلیمان کے تین اراکین کو چھوڑ کر باقی سب کا تعلق یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں سے ہے۔ وہ مبینہ طور پر اسلام مخالف بیان بازی کے لئے بھی مشہور ہیں۔اس دوران محبوبہ مفتی کے ٹویٹر ہینڈل پر ان کی بیٹی التجا مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ امریکی اراکین پارلیمان کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ غیر ملکی وفد کو عام لوگوں، مقامی میڈیا، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بات چیت کرنے کا موقع ملے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر اور باقی دنیا کے درمیان حائل لوہے کی چادر ہٹا دی جائے۔

First published: Oct 29, 2019 08:06 PM IST