உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Online Gaming:آگرہ میں بیٹے نے موبائل پر کھیلا آن لائن گیم، والد کے اکاونٹ سے کٹ گئے 39 لاکھ روپے

    Online Gaming سے 39 لاکھ روپے اکاونٹ سے ہوئے کٹ۔

    Online Gaming سے 39 لاکھ روپے اکاونٹ سے ہوئے کٹ۔

    Online Gaming: بچوں کو تنہائی میں گیم کھیلنے کے لئے موبائل نہیں دینا چاہیے۔ وہ کون سا گیم کھیل رہے ہیں، اس پر نظر رکھیں۔ جس موبائل میں بچے گیم کھیل رہے ہیں، اس میں ای والیٹ نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو اے ٹی ایم کارڈ کا نمبر، سی وی وی نمبر اور او ٹیپی نہیں بتانا چاہیے۔

    • Share this:
      آگرہ:Online Gaming:ایک ریٹائرڈ فوجی کے بیٹے کے گیم کھیلنے کی لت کی وجہ سے آگرہ کے کھنڈولی میں فوجی کے اکاؤنٹ سے 39 لاکھ روپے کٹ گئے۔ جب تک اس بات کا پتہ چلتا، بہت دیر ہو چکی تھی۔ متاثرہ کی شکایت پر رینج سائبر تھانے نے تفتیش کی۔ اس میں معاملہ سامنے آنے کے بعد گیم فراہم کرنے والی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

      ریٹائرڈ فوجی نے ایک ماہ قبل رینج سائبر تھانہ میں شکایت کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ سے 39 لاکھ روپے نکالے گئے ہیں۔ لیکن یہ رقم کیسے نکلی؟ پتہ نہیں چلا ہے۔ انہوں نے کسی کو کوئی اطلاع نہیں دی۔ کوئی ایپ بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کی۔ سائبر سیل نے کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس سے قبل سابق فوجی کے اکاؤنٹ کے ٹرانزیکشن کی جانکاری مل گئی۔

      پتہ چلا ہے کہ پہلے رقم پے ٹی ایم سے کوڈا پیمنٹ میں گئی۔ اس کے بعد سنگاپور کی بینک کے اکاونٹ میں چلی گئی۔ یہ اکاونٹ کرافٹن کمپنی کا ہے۔ کمپنی بیٹل گراونڈس موبائل انڈیا کے نام سے آن لائن گیم کھلاتی ہے۔ یہ گیم پچھلے کچھ مہینے پہلے ہندوستان میں کافی مشہور ہوا تھا۔

      ایپ میں آٹو موڈ پر تھی ادائیگی
      گیم میں ہتھیار اور دیگر خصوصیات ادائیگی کرکے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی کا بیٹا گیم کھیلتا تھا۔ اس نشے کی وجہ سے اس نے گیم میں ادائیگی کی۔ آٹو موڈ پر ادائیگی کی وجہ سے، رقم کاٹ لی گئی۔ یہ بات کافی عرصے بعد معلوم ہوئی۔ بیٹے کی وجہ سے اکاؤنٹ سے 39 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔

      سائبر رینج پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر آکاش سنگھ کے مطابق کرافٹن کمپنی کے خلاف ریٹائرڈ فوجی کی شکایت پر دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Bulli Bai Case: ممبئی عدالت نے تین ملزمین کو دی ضمانت، ’’کیس میں جھوٹا پھنسایا گیا تھا‘‘

      یہ بھی پڑھیں:
      HOTEL میں چل رہا تھا جسم فروشی کا دھندا، پولیس نے قابل اعتراض حالت میں پکڑے کئی جوڑے

      بچوں پر رکھیں نظر
      ایس ایس پی سدھیر کمار سنگھ نے بتایا کہ بچے موبائل پر آن لائن گیمز کھیلتے ہیں۔ کئی بار کھیل میں سہولیات بڑھانے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ موبائل میں بھی ای والیٹ ہوتے ہیں۔ جب بچے کھیل میں سہولیات بڑھانے کے لیے اوکے کرتے ہیں تو رقم کٹ ہوجانا شروع ہوتی ہے۔ بچوں کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔

      اس لئے بچوں کو تنہائی میں گیم کھیلنے کے لئے موبائل نہیں دینا چاہیے۔ وہ کون سا گیم کھیل رہے ہیں، اس پر نظر رکھیں۔ جس موبائل میں بچے گیم کھیل رہے ہیں، اس میں ای والیٹ نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو اے ٹی ایم کارڈ کا نمبر، سی وی وی نمبر اور او ٹیپی نہیں بتانا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: